بھارتی خواتین کے پاس دنیا کا 11 فیصد سونا، 5 ممالک کے مجموعے سے بھی زیادہ

بھارتی خواتین کے پاس دنیا کا 11 فیصد سونا، 5 ممالک کے مجموعے سے بھی زیادہ

آکسفورڈ گولڈ گروپ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سونا ہندوستانی خواتین کے پاس موجود ہے، اور یہ سونا پانچ مختلف ممالک کے مجموعی سونے کی مقدار سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی خواتین کے پاس دنیا کا 11 فیصد سونا موجود ہے، جو تقریباً 24,000 میٹرک ٹن بنتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق، جنوبی ہندوستان سونے کی ملکیت سے متعلق ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں کی خواتین کے پاس ہندوستان کے سونے کے کل ذخائر کا 40 فیصد حصہ موجود ہے۔ خاص طور پر ریاست تمل نادو اس حوالے سے نمایاں ہے، جہاں بھارت کا 28 فیصد سونا موجود ہے۔ اس سونے کا مجموعی طور پر بھارت کی جی ڈی پی کا تقریباً 40 فیصد حصہ بنتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگر عالمی طاقتوں کی نسبت، ہندوستانی خواتین کے پاس موجود سونے کی مقدار زیادہ ہے۔ مثلاً، امریکہ کے پاس 8,133 میٹرک ٹن، جرمنی کے پاس 3,362 میٹرک ٹن، اٹلی کے پاس 2,451 میٹرک ٹن، فرانس کے پاس 2,436 میٹرک ٹن اور روس کے پاس 2,298 میٹرک ٹن سونا ہے۔ ان تمام ممالک کے سونے کی مقدار کو ملا کر بھی اگر دیکھیں تو بھارتی خواتین کے پاس موجود سونا ان تمام ممالک کے مشترکہ سونے سے کہیں زیادہ ہے۔

بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے تحت، شادی شدہ خواتین کو 500 گرام سونا ذخیرہ کرنے پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے، جس سے ان کے سونے کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ذخیرہ کا ایک اہم اقتصادی پہلو یہ ہے کہ یہ سونا نہ صرف ذاتی دولت کا ایک وسیلہ ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔