انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ برینڈن میکلم نے پاکستان میں کھیلی گئی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود مستقبل کے لیے مثبت توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگلش ٹیم اس دورے سے اہم تجربات حاصل کرے گی اور اپنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔
برینڈن میکلم کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کا بنیادی ہدف آئندہ سال ہونے والے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ میں ایک مضبوط اور متوازن ٹیم کے ساتھ شرکت کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کھلاڑیوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی کارکردگی میں بہتری لانا ہوگی۔انگلش ہیڈ کوچ نے کہا کہ ٹیم پاکستان میں ہونے والی سہ فریقی سیریز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ کن شعبوں میں ٹیم نے بہتر کھیل پیش کیا جبکہ کن معاملات میں مزید محنت اور بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ میں مسلسل سیکھنے اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کا عمل انتہائی اہم ہے اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان کا دورہ ٹیم کے لیے مفید ثابت ہوگا۔برینڈن میکلم نے انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کی قیادت اور حکمت عملی کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیری بروک نے مشکل حالات میں ٹیم کو سنبھالنے اور کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے اچھے فیصلے کیے۔
کوچ کے مطابق کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مشکل صورتحال میں بھی ٹیم کو متحد رکھے اور بہتر نتائج کے لیے حکمت عملی اختیار کرے۔واضح رہے کہ پاکستان میں منعقدہ سہ فریقی ون ڈے سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کو ابتدائی تین میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں وہ فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی تھی۔ تاہم انگلش ٹیم نے ایونٹ کے آخری گروپ میچ میں سری لنکا کو 55 رنز سے شکست دے کر کامیابی کے ساتھ ٹورنامنٹ کا اختتام کیا۔سیریز میں مجموعی طور پر مایوس کن کارکردگی کے باوجود آخری میچ میں کامیابی انگلینڈ کے لیے حوصلہ افزا رہی، جبکہ ٹیم مینجمنٹ اب مستقبل کے مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ٹیم کے کمزور پہلوؤں پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔