اساتذہ کی معطلی پرنظرثانی کا مطالبہ،جائز حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کااعلان
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن( آسا)کے جنرل باڈی اجلاس میں مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، شعبہ جات صدور اور خواتین اساتذہ سمیت جامعہ کے مرداساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ وائس چانسلر کی جانب سے دو سینئر اساتذہ کو معطل کرنے اور انکے دفاتر کو تالے لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اساتذہ کی عزتِ نفس اور وقار پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکانے اساتذہ کی بجائے انتظامیہ کیساتھ کھڑے ہونے پر آسا کے معزول صدر ڈاکٹر امجد عباس مگسی پر بھی شدید تنقید کی۔ اساتذہ نے معطل پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد اور پروفیسر ڈاکٹر اظہر نعیم کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کیساتھ کھڑے ہیں۔اجلاس میں مطالبات پر مشتمل قرارداد بھی منظور،یونیورسٹی کے مالی وانتظامی معاملات کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیاتاکہ شفاف جانچ پڑتال سیجامعہ کے تمام معاملات میں جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ قرارداد میں اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ شرکا نے کہامعطل اساتذہ کے معاملے پر نظرثانی کی جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اساتذہ اپنے حقوق کیلئے آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جنرل باڈی نے اس امید کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اساتذہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرکے مبینہ مالی کرپشن اور بدانتظامی کا محاسبہ کرے گی۔