گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حالیہ سیاحتی حادثے میں سیاحوں کی جان بچانے والے دو مقامی نوجوانوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے نہ صرف عمرے کی ادائیگی کے لیے بھیجنے کا اعلان کیا بلکہ وزیراعظم پاکستان کو سول ایوارڈ دینے کی سفارش کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
بہادر نوجوانوں کی شناخت:
محمد ہلال خان
عصمت علی
یہ دونوں نوجوان سوات کے مقامی شہری ہیں جنہوں نے مصنوعی کشتی کے ذریعے دریا میں پھنسے سیاحوں کو بچایا۔ گورنر نے ان نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کے انسانی جذبے، جرأت اور قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔
اعزازات اور اعلانات:
گورنر کنڈی نے اپنی جانب سے دونوں نوجوانوں کو عمرے پر بھیجنے کا اعلان کیا۔
دونوں نوجوانوں کو تعارفی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
وزیراعظم کو سفارش بھیجی جائے گی کہ انہیں سول ایوارڈز دیے جائیں۔
گورنر کی ہدایات:
چیئرمین ہلالِ احمر کو ہدایت دی گئی ہے کہ:
سوات آفس کو ایمرجنسی خدمات کے لیے مزید مستحکم کیا جائے۔
آفس میں موجود ایمبولینسز کے ساتھ کشتیوں کا بھی بندوبست کیا جائے تاکہ مستقبل میں ہنگامی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
محمد ہلال خان: سوات کا بے وردی ہیرو
محمد ہلال خان ایک ایسا نوجوان ہے جو نہ کسی سرکاری عہدے پر فائز ہے، نہ تنخواہ لیتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی وسائل ہیں، مگر وہ انسانیت کے جذبے کے تحت ہر خطرہ مول لے کر دریا میں کود کر لوگوں کی جانیں بچاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ہلال کی ریسکیو کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
عوامی رائے ہے کہ ہلال جیسے نوجوانوں کو صرف تعریف ہی نہیں بلکہ:
مستقل روزگار
سرکاری ریسکیو ٹیم کا حصہ
بنایا جانا چاہیے۔
صارفین نے کہا کہ یہ صرف داد دینے کا وقت نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کا وقت ہے، اور ایسے ہی نوجوان پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں۔
عوامی جذبات:
“سلام ہلال، تم پاکستان کے اصل ہیرو ہو!”