امریکی صدر ٹرمپ کیلئے لازم ہوگا کہ وہ کانگریس سے منظوری حاصل کریں، امریکی سینیٹرز
واشنگٹن(آئی این پی )امریکا میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے 60 دن مکمل ہونے کے بعد وائٹ ہائو س اور کانگریس کے درمیان آئینی اختیارات اور قانونی منظوری کے معاملے پر دبائو بڑھ گیا ہے، جس نے واشنگٹن میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹرز کا موقف ہے کہ مقررہ مدت کے بعد صدر کیلئے کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی، ورنہ جنگی کارروائی پر پابندی لگ سکتی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکا میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر کانگریس اور وائٹ ہائو س کے درمیان آئینی اختیارات اور قانونی تقاضوں سے متعلق دبا میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتِ حال نے واشنگٹن میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا ہے کہ جنگی اختیارات کس حد تک صدر کے پاس ہیں اور کب کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ریپبلکن سینیٹرز نے واضح کیا ہے کہ وار پاور ایکٹ کے تحت جنگ کے 60 دن مکمل ہونے کے بعد صدر کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔ سینیٹرز کے مطابق اگر یہ منظوری حاصل نہ کی گئی تو کانگریس کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اس موقف نے انتظامیہ پر قانونی دبا ئومزید بڑھا دیا ہے۔سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کی سربراہ سوزن کولنز نے کہا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد دو ہی راستے ہوں گے یا تو صدر کانگریس سے اجازت لیں یا پھر قانون ساز ادارہ جنگی کارروائی کو محدود یا معطل کرنے کے اقدامات کرے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ براہِ راست آئینی توازن اور جنگی اختیارات کی تقسیم سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کانگریس کا کردار ناگزیر ہے۔دوسری جانب سینیٹر مائیک رانڈز نے اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر اس ڈیڈ لائن میں 30 دن کی اضافی توسیع کی درخواست کر سکتے ہیں، جو قانون کے تحت اس صورت میں ممکن ہے جب اس کی مناسب اور واضح وجہ پیش کی جائے۔ان کا کہناہے کہ اس ممکنہ توسیعی مدت کے دوران قانون ساز ارکان حکومت سے مزید تفصیلات اور وضاحتیں طلب کریں گے تاکہ جنگ کی موجودہ صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔رانڈز نے مزید کہا کہ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی اس معاملے پر اعلی دفاعی حکام سے تفصیلی سوالات کرے گی اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو حساس نوعیت کی بریفنگز بند کمرہ اجلاس میں بھی دی جا سکتی ہیں تاکہ مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال امریکا میں جنگی اختیارات، صدر کے فیصلوں اور کانگریس کے آئینی کردار کے درمیان ایک اہم اور فیصلہ کن بحث کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی بدستور برقرار ہے اور خطے میں صورتِ حال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔