وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں 2023ء سے جاری ظلم و ستم کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ اجلاس میں حوصلہ افزا بات چیت ہوئی جس کی صدارت صدر ٹرمپ نے کی، اور پاکستان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن اور مصر بھی شریک ہوئے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جنرل اسمبلی میں فلسطینی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور مسئلہ کشمیر پر بھی مؤثر آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کے خلاف بربریت کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ معرکۂ حق میں بھارت کو شکست فاش دینے اور پاک افواج کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عاصم منیر کی قیادت میں فوج اور بابر سدھو کی قیادت میں فضائیہ نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔
معیشت بنیادی استحکام حاصل کر چکی ہے اور پائیدار ترقی کے لیے دن رات کام جاری ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ کامیاب رہا۔ اقوام متحدہ میں غزہ کے حوالے سے اجلاس خوش آئند پیشرفت ہے جبکہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ باہمی تجارتی تعاون کو وسعت دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے دورے میں پاکستان کو بے پناہ عزت دی گئی، اور شاندار استقبال 24 کروڑ عوام کے لیے باعث فخر ہے۔