مولانا کی تقریر کے دوران خواجہ آصف ہاتھ جوڑتے رہے، لگتا ہے انہیں جواب دینے کی ہدایت ملی، عالیہ کامران

مولانا کی تقریر کے دوران خواجہ آصف ہاتھ جوڑتے رہے، لگتا ہے انہیں جواب دینے کی ہدایت ملی، عالیہ کامران

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن عالیہ کامران اور سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومتی ارکان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خواجہ آصف، حنیف عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی کردار پر سوالات اٹھائے۔

 دونوں رہنماؤں نے اپنے خطابات میں حکومت کے رویے، سیاسی تاریخ اور ملک کی موجودہ صورت حال پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

خواجہ آصف کو جواب دینے کے لیے ہدایات ملی ہیں، عالیہ کامران
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ جب گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن تقریر کر رہے تھے تو خواجہ آصف ہاتھ جوڑ رہے تھے، انہیں اسی وقت جواب دینا چاہیے تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورت حال سے ایسا لگتا ہے جیسے خواجہ آصف کو کہیں سے ہدایات موصول ہوئی ہوں۔ عالیہ کامران نے کہا کہ انہیں اپنے بیان پر معافی بھی مانگنی چاہیے اور انہیں اپنی وزارتوں کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ وہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی میں موجود ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان کی موجودگی یا سیاسی کردار پر غیر ضروری اعتراضات کرے۔ انہوں نے خواتین کے حوالے سے ہونے والی گفتگو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی نوعیت کے بیانات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

حنیف عباسی پر عبدالغفور حیدری کی سخت تنقید
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے حنیف عباسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے سیاسی مؤقف میں تبدیلیوں پر اعتراض کیا۔انہوں نے حنیف عباسی کے لیے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی طور پر مستقل مؤقف اختیار نہیں کرتے۔ عبدالغفور حیدری نے خواجہ آصف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ طاقت ور فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کی سیاست کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جانا چاہیے، خصوصاً ماضی میں جمہوری نظام اور مارشل لا کے حوالے سے جماعت کے کردار کو سامنے رکھنا چاہیے۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جے یو آئی (ف) نے ماضی میں فوجی حکومتوں کی مخالفت کی اور آمریت کے خلاف اپنا مؤقف واضح کیا، جبکہ ان کے بقول بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے اس نوعیت کے مواقع پر مؤثر ردعمل نہیں دیا۔

ماضی کی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے مؤقف پر سوالات
عبدالغفور حیدری نے سابق صدر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے مختلف ادوار میں آمریت کی مخالفت کی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مولانا فضل الرحمٰن اور وہ خود قید میں رہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ماضی کے فیصلوں اور مؤقف کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے سابقہ بیانات اور موجودہ سیاسی طرزِ عمل میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے تنقید کی۔

پی ڈی ایم اور لانگ مارچ کے معاملے پر اختلافات کا ذکر
مولانا عبدالغفور حیدری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان لانگ مارچ اور احتجاجی حکمتِ عملی پر مشاورت ہوئی تھی۔ان کے مطابق جے یو آئی (ف) نے سڑکوں پر احتجاج اور دھرنے کی تجویز دی تھی، تاہم مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں نے اس حکمتِ عملی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاجی طریقۂ کار اور ترجیحات میں فرق رہا ہے، جسے موجودہ سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔

ملک کی خارجہ پالیسی اور سرحدی صورت حال پر تشویش
اپنے خطاب میں عبدالغفور حیدری نے پاکستان کے علاقائی تعلقات اور خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے چین کے ساتھ اعتماد کے فقدان کا دعویٰ کیا اور کہا کہ بھارت، ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات پر بھی مشکلات موجود ہیں۔انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے افغانستان کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ حکمرانوں کو علاقائی معاملات بہتر انداز میں سنبھالنے چاہییں۔عبدالغفور حیدری کے یہ بیانات حکومت کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے ان کے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان دعوؤں کی تفصیلات اور متعلقہ حکومتی مؤقف الگ سے سامنے آنا ضروری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف مؤقف اور جے یو آئی (ف) پر حملوں کا ذکر
مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی جماعت نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو جائز قرار نہیں دیا اور دہشت گردی کے خلاف اپنا مؤقف واضح رکھا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی جماعت کے کارکن پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جماعت پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو ان الزامات کے شواہد بھی سامنے لائے جانے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی جماعت کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے مکالمے کی ضرورت
قومی اسمبلی میں ہونے والی تقاریر سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوئے۔ عالیہ کامران نے خواجہ آصف کے رویے اور مبینہ ہدایات پر سوال اٹھائے، جبکہ عبدالغفور حیدری نے حنیف عباسی، خواجہ آصف اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی تاریخ پر تنقید کی۔دونوں رہنماؤں کے بیانات میں سیاسی جماعتوں کے ماضی، جمہوری نظام، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی جیسے معاملات زیرِ بحث آئے۔