برازیل کے معروف فٹبالر اور کلب سانتوس کے کپتان نیمار کو دورانِ میچ حریف کھلاڑی سے تلخ کلامی کے بعد منہ ڈھانپنے پر دو اضافی میچز کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔
برازیل کی سپیریئر کورٹ آف اسپورٹس جسٹس (STJD) نے اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے سزا کا اعلان کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 34 سالہ نیمار کو ہفتے کے روز باہیا کے خلاف برازیلین سیری اے کے میچ میں ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ یہ مقابلہ ایک، ایک گول سے برابر رہا تھا، تاہم میچ کے دوران نیمار اور باہیا کے مڈفیلڈر روڈریگو نیسٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
منہ ڈھانپنے پر کارروائی کیوں ہوئی؟
اسپورٹس ٹریبونل کے مطابق نیمار نے حریف کھلاڑی کے ساتھ بحث کے دوران اپنا منہ ڈھانپ لیا تھا، جسے ٹریبونل نے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس معاملے کو اس ضابطے کے تحت دیکھا گیا جسے میڈیا رپورٹس میں ونیسیئس جونیئر رول کہا گیا ہے۔ اس ضابطے کا مقصد میدان میں ایسے رویوں کی روک تھام کرنا ہے جن میں کھلاڑی منہ چھپا کر ایسی گفتگو کریں جس کا جائزہ لینا مشکل ہو۔ریفری کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریڈ کارڈ ملنے کے بعد نیمار حریف ٹیم کے بینچ کی جانب بڑھے، تاہم ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد ٹریبونل نے نیمار کے رویے کا جائزہ لیا اور ان کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کی۔
سانتوس کے آئندہ میچز میں شرکت نہیں کر سکیں گے
اس پابندی کے باعث نیمار سانتوس کے آئندہ تین میچز میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ وہ پہلے ہی تین یلو کارڈز جمع ہونے کی وجہ سے بدھ کے روز پالمیراس کے خلاف میچ کے لیے دستیاب نہیں تھے، جبکہ منہ ڈھانپنے کے واقعے پر عائد کی گئی دو میچز کی اضافی پابندی ان کی غیر موجودگی میں مزید اضافہ کرے گی۔نیمار کی عدم دستیابی سانتوس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ٹیم کے اہم کھلاڑی اور کپتان ہیں۔ ان کی کارکردگی اور میدان میں موجودگی ٹیم کے کھیل پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔
فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل
نیمار اور ان کے کلب سانتوس کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر اپیل کامیاب نہ ہوئی تو نیمار کی واپسی میں تاخیر ہو سکتی ہے اور انہیں نومبر کے آخر تک میدان سے باہر رہنا پڑ سکتا ہے۔