پاکستانی گلوکارہ حمیرا ارشد سعودی عرب پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ ذیشان روکھڑی اور دیگر پاکستانی فنکاروں کے ہمراہ ثقافتی اور موسیقی کے پروگراموں میں شرکت کریں گی۔
ان پروگراموں کا مقصد سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان کی ثقافت، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دینا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی محبت سعودی عرب لے آئی، حمیرا ارشد
دمام پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمیرا ارشد نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی محبت انہیں سعودی عرب کھینچ لائی ہے۔ ان کے مطابق، اوورسیز پاکستانی اپنے وطن سے گہری محبت اور وابستگی رکھتے ہیں اور پاکستان سے دور رہنے کے باوجود اپنی ثقافت اور روایات سے جڑے رہتے ہیں۔گلوکارہ نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والا ہر پاکستانی اپنے ملک کا سفیر ہے۔ اس لیے تمام پاکستانیوں کو چاہیے کہ اپنے اچھے کردار، مثبت رویے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے دنیا بھر میں پاکستان کی اچھی تصویر پیش کریں اور ملک کا نام روشن کریں۔
دمام، ریاض اور جدہ میں کب ہوں گے میوزیکل شوز؟
پاکبان اور گلوری ایونٹ اینڈ پی آر کے اشتراک سے سعودی عرب کے تین بڑے شہروں میں پاکستانی فنکاروں کی پرفارمنس کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔
29 اکتوبر: دمام میں پہلا ثقافتی و موسیقی کا پروگرام۔
30 اکتوبر: ریاض میں پاکستانی فنکاروں کی پرفارمنس۔
5 نومبر: جدہ میں ثقافتی اور میوزیکل شو۔
ان پروگراموں کے پہلے مرحلے میں حمیرا ارشد اور ذیشان روکھڑی سمیت دیگر فنکار شرکت کریں گے۔ منتظمین کے مطابق، مستقبل میں بھی ہر دو سے تین ماہ بعد سعودی عرب میں پاکستانی فنکاروں کے پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے مشترکہ کوشش
پاکبان کے چیئرمین عمران صدیقی نے اس ثقافتی اقدام کو پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا۔ سابق پاکستانی کرکٹر عبدالرزاق نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فنکار بیرون ملک ملک کی ثقافت اور روایات کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔گلوری ایونٹ اینڈ پی آر کے سی ای او عاکف انصاری کے مطابق، اس اقدام کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کے لیے سعودی عرب میں پرفارم کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے فنکاروں کو بلاامتیاز مواقع فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس سلسلے میں پاکبان اور گلوری ایونٹ اینڈ پی آر کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے تفریح کا موقع
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ پروگرام اپنے وطن کی موسیقی، ثقافت اور فنکاروں سے جڑنے کا ایک موقع ہوں گے۔ حمیرا ارشد کے مطابق، ایسے پروگرام ان پاکستانیوں کے لیے بھی اہم ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان آ کر فنکاروں کی پرفارمنس نہیں دیکھ سکتے۔