مٹھی: بی ایچ یو کی ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی

مٹھی: بی ایچ یو کی ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی

مٹھی: سندھ کے ضلع تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں دیہی مرکز صحت دانوداندل میں کھڑی پی پی ایچ آئی (PPHI) ایمبولینس میں سلنڈر دھماکے کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی، جبکہ پانچ سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

 واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پھیل گئی اور امدادی اداروں نے فوری طور پر کارروائیاں شروع کردیں۔ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے اور آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ امدادی اہلکاروں نے آگ پر قابو پانے، متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کیں۔دھماکے کے نتیجے میں ایمبولینس میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ ایمبولینس مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگئی۔ واقعے میں متعدد افراد متاثر ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایک زخمی اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا
ریسکیو انچارج کے مطابق واقعے میں شدید زخمی ہونے والے ایک شخص کو سول اسپتال مٹھی منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ اس ہلاکت کے بعد واقعے میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 8 ہوگئی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں اسحاق تھیبو، ڈینو میگھواڑ اور پنڌی راجڑ شامل ہیں، جبکہ دیگر افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حکام متاثرین کی شناخت اور واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے ایک شیرخوار بچے اور ایک خاتون سمیت متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کی حالت اور ان کے علاج سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

انتظامیہ اور امدادی ادارے جائے وقوعہ پر موجود
اسسٹنٹ کمشنر ننگرپارکر کے مطابق ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122 اور ٹاؤن انتظامیہ کے اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی گئیں تاکہ متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جا سکے اور صورتِ حال کو قابو میں رکھا جا سکے۔واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دھماکے کی وجوہات جاننے کی ضرورت بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں سلنڈر دھماکے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم دھماکے کی اصل وجہ، سلنڈر کی نوعیت اور ایمبولینس میں آتشزدگی کے حالات سے متعلق حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

واقعے کی تحقیقات اہم قرار
ننگرپارکر میں پیش آنے والے اس افسوس ناک واقعے نے طبی مراکز میں کھڑی گاڑیوں اور سلنڈروں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تکنیکی معائنہ اور متعلقہ حکام کی تحقیقات اہم ہوں گی، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکا کن حالات میں ہوا اور آیا حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی تھی۔