ہم بے گناہ ہیں، ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا، ایمان مزاری

اسلام آباد(آئی این پی )اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی کا ضابط فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ بیان احتجاجا جمع کرا رہی ہوں، کرکٹ ٹیم اس راستے سے گزر ہی نہیں رہی تھی اور پولیس نے خود بتایا تھا کہ ٹیم دوسرے راستے سے جا چکی ہے۔ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ سڑک کی عارضی بندش کے لئے پولیس کے پاس مجسٹریٹ کا حکم موجود نہیں تھا، ہمیں بطور وکیل انسدادِ دہشت گردی عدالت پہنچنا تھا، اسلئے ہم نے 15 منٹ انتظار کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی، غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے شہریوں کی نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پولیس سے صرف یہ کہا تھا کہ سڑک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، اگر بیریئر ہٹانے سے سیکیورٹی کا خطرہ تھا تو پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں نہیں روکا؟