لاہور: دریائے راوی میں حالیہ سیلاب کے باعث شاہدرہ کے نواحی علاقوں میں کئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
تیز بہاؤ کے نتیجے میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا اور کئی مقامات پر تین سے چار فٹ تک کھڑا رہا، جس سے رہائشی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
متاثرہ علاقے اور صورتحال
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقے: محفوظ گارڈن، تھیم پارک، شفیق آباد، فرخ آباد، مرید والا، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، طلعت پارک۔کئی بڑی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی سیلاب کی لپیٹ میں آئیں، کچھ بلاک مکمل طور پر زیرِ آب ہو گئے۔مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور اسکولوں کو ریلیف کیمپس میں تبدیل کیا۔
نارووال کے قریب دریا کے کنارے بھی متعدد دیہات زیرِ آب آئے، تقریباً 11 ہزار افراد اور ساڑھے چار ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔
نقصان اور اثرات
گھروں میں پانی داخل ہونے سے سامان تباہ ہوا اور چھوٹے پل اور رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئیں۔زرعی زمینیں اور چراگاہیں بھی زیرِ آب آئیں، جس سے کسان طبقہ متاثر ہوا۔پی ڈی ایم اے کے مطابق 1769 موضع جات میں تقریباً 1.45 ملین افراد متاثر ہوئے، اور 365 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے۔اب تک 429,177 افراد اور 300,000 سے زائد مویشی ریسکیو کیے جا چکے ہیں۔مون سون کے آٹھویں اسپیل کے دوران 20 افراد ہلاک ہوئے۔
حکومتی اقدامات
متاثرہ آبادیوں کی بحالی کے لیے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔حکومت نے اعلان کیا کہ دریا کے بیڈ پر بنائی گئی سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں، اور این او سی دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ راوی کے کنارے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر نے سیلاب کے خطرات کو مزید بڑھا دیا۔