عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت 1.32 ڈالر یا 1.27 فیصد اضافے کے بعد 106.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 70 سینٹ یا 0.76 فیصد بڑھ کر 93.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تنازع کے خاتمے کے لیے امن کی تجویز پیش کی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کی تجویز مسترد کیے جانے کی تصدیق کی، تاہم اتوار کو Axios کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں شریک ہوسکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور موجود ہیں، جبکہ حوثیوں اور ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے باعث تیل کی ترسیل اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتے کی صبح دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو روک دیا گیا۔گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم WTI کی قیمت 7.9 فیصد کم ہوئی۔ WTI میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ خدشہ تھا کہ امریکا ریکارڈ بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات محدود کرسکتا ہے، جس سے ملکی ریفائننگ سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ مہنگائی کے خدشات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ امریکی ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی بحث بھی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بحالی
دوسری جانب Kpler کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ستمبر میں خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بھی بحالی ہوئی ہے اور رواں ماہ اس کی مقدار تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔سعودی عرب نے حملوں کے باعث اپنی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد ریڈ سی کی بندرگاہ ینبع کے بجائے مشرقی ساحل پر واقع راس تنورہ بندرگاہ سے تیل کی برآمدات میں اضافہ کردیا ہے۔