لاہور: نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسانوں کی خوشحالی، زرعی پیداوار میں اضافے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت اب تک 25 ہزار ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ دو سال کے دوران اس پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مجموعی طور پر 50 ہزار ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کی وجہ سے پاکستان میں ٹریکٹر سازی کی صنعت کو نئی زندگی ملی ہے اور زرعی مشینری کی مقامی تیاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کا مقصد کسانوں کو جدید مشینری فراہم کرکے پیداواری لاگت کم کرنا، فصلوں کی پیداوار بڑھانا اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بہترین وزیروں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کے ترجمان بھی ہیں۔ خود کاشتکار ہونے کی وجہ سے وہ کسانوں کے مسائل، ضروریات اور مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
زرعی ترقی کے لیے 400 ارب روپے تک کی فنانسنگ
مریم نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ 11 سال کے دوران زراعت کے لیے تین ارب روپے کی فنانسنگ کی گئی، جبکہ موجودہ اقدامات کے نتیجے میں زرعی شعبے کے لیے مالی معاونت کو 400 ارب روپے تک پہنچایا گیا ہے۔ان کے مطابق پنجاب حکومت کسانوں کو مالی سہولتیں فراہم کرنے، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی معاونت کے لیے 17 ارب روپے کے سبسڈی لون فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر کسان کارڈ کے ذریعے فی ایکڑ 3,500 روپے اضافی قرض فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو فصلوں کی کاشت کے اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے قرضوں کی فراہمی کا نظام ڈیجیٹل بنایا گیا ہے، جس سے میرٹ پر کاشتکاروں کو مالی معاونت مل رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کی جانب سے قرضوں کی تقریباً 100 فیصد واپسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کسان حکومت پر اور حکومت کسانوں پر اعتماد کرتی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ کسان کارڈ کے اجرا سے قبل مڈل مین کاشتکاروں کو اپنے دباؤ میں رکھتا تھا، تاہم اب براہ راست مالی معاونت کے ذریعے کسانوں کی خودمختاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹھیکے اور لیز پر زمین کاشت کرنے والے کسانوں کو کسان کارڈ پروگرام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گرین ٹریکٹر اسکیم اور زرعی مشینری کی صنعت
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم زرعی انقلاب کی بنیاد بن رہی ہے۔ حکومت ہائی ٹیک میکانائزیشن کے لیے 70 ارب روپے مختص کر رہی ہے، جبکہ ہیپی سیڈر سمیت جدید زرعی آلات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان کے مطابق زرعی مشینری کے استعمال سے نہ صرف فصلوں کی کاشت اور برداشت میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی سطح پر صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کمپنیاں سالانہ 30 ہزار ٹریکٹر تیار کر رہی ہیں، جبکہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ہارویسٹر اسمبلی اور ٹریکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹس بھی لگائے جا رہے ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ جدید زرعی مشینری کی مقامی تیاری سے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور زرعی شعبے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
ایگرو پروسیسنگ پارکس، کسان کو فصل کا بہتر معاوضہ دینے کا منصوبہ
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرگودھا، بھکر، خانیوال اور اوکاڑہ میں ایگرو پروسیسنگ پارکس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ کسانوں کو اپنی فصلوں کا بہتر معاوضہ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ آم، کینو، مالٹا، آلو اور دیگر زرعی اجناس کی گریڈنگ، پراسیسنگ اور اسٹوریج کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس سے فصلوں کو محفوظ رکھنے، ان کے معیار کو بہتر بنانے اور مارکیٹ میں بہتر قیمت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔مریم نواز شریف کے مطابق حکومت کا ہدف صرف فصلیں پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اضافی پیداوار کو برآمد کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی زیادہ پیداوار کی صورت میں پاستا سمیت مختلف ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرکے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی اور زرعی ترقی کے نئے منصوبوں پر عمل درآمد سے پنجاب کی معیشت میں بہتری آئے گی اور کاشتکاروں کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے گا۔
گندم کی خریداری اور کسانوں کے لیے مالی معاونت
مریم نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں گندم کے لیے 4,500 روپے فی من امدادی نرخ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت گندم کی خریداری کا منصوبہ جلد باقاعدہ طور پر متعارف کرائے گی، جبکہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام اور آن لائن پورٹل بھی لایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو گندم کی بوائی کے لیے مراعات اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زرعی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کے باوجود حکومت ان کی معاونت جاری رکھے گی۔ مریم نواز شریف کے مطابق زرعی انکم ٹیکس کے معاملے پر بھی کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود مزاحمت کی گئی۔
پانی کی منصفانہ تقسیم اور آبپاشی کے منصوبے
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسانوں کو پانی کی بروقت اور منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پانی چوری کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ نہروں کے آخری حصے تک پانی پہنچ سکے۔ان کا کہنا تھا کہ چھوٹا ہو یا بڑا، غریب ہو یا بااثر، ہر کاشتکار کو اس کے کھیت تک پانی ملنا چاہیے۔ حکومت پنجاب میں کھالوں کو پختہ کرکے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔مریم نواز شریف نے بتایا کہ پوٹھوہار کے علاقے میں 400 منی ڈیم بنانے کا منصوبہ جاری ہے، جبکہ کاشتکاروں کو ہائی پاور ایریگیشن سسٹم فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کی بہتر تقسیم، جدید آبپاشی اور زرعی وسائل کے مؤثر استعمال سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا۔
زرعی ماہرین، مٹی اور پانی کی جانچ کی سہولتیں
مریم نواز شریف کے مطابق کسانوں کی عملی رہنمائی اور زرعی پیداوار بہتر بنانے کے لیے 1,500 ایگریکلچر انٹرنز فیلڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہیں ماہانہ 70 ہزار روپے معاوضہ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موبائل سوائل فرٹیلٹی اور واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریاں متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ کاشتکار اپنی زمین کی زرخیزی اور آبپاشی کے پانی کے معیار کی جانچ کرا سکیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مٹی اور پانی کی درست جانچ کے ذریعے کھادوں کے مناسب استعمال، پیداواری اخراجات میں کمی اور فصلوں کی بہتر نشوونما میں مدد مل سکتی ہے۔
زیتون کی کاشت اور لائیو اسٹاک کی پیداوار
وزیراعلیٰ پنجاب نے زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں زیتون کی پیداوار میں اضافے کے امکانات موجود ہیں اور مناسب اقدامات کے ذریعے آئندہ دو سے تین سال میں اسے برآمدات کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔لائیو اسٹاک کے حوالے سے مریم نواز شریف نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران چار لاکھ جانوروں کی فربہی کی گئی، جبکہ رواں سال مزید چھ لاکھ مویشی تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے ساتھ مویشی پالنے کے شعبے کی ترقی بھی دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
عاشق حسین کرمانی اور کاشتکاروں کا ردعمل
صوبائی وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے زراعت کے بجٹ کو 15 ارب روپے سے بڑھا کر 400 ارب روپے تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی سالگرہ کا دن کاشتکاروں کے نام کرنے پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔عاشق حسین کرمانی کے مطابق کسانوں کو فصلوں کا بہتر معاوضہ دلانے کے لیے ویلیو ایڈیشن کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ ٹریکٹر مینوفیکچرنگ اور ہارویسٹر اسمبلی پلانٹس زرعی شعبے کی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔کاشتکار حسن رضا نے گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے مقرر کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں کسانوں کے لیے امید کی کرن قرار دیا۔کاشتکار عامر حیات بندیشہ نے کسان کارڈ اور الیکٹرو بس جیسے منصوبوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کی تعریف کی۔
کاشتکار بلال خان نے پنجاب میں زیتون کی پیداوار کے امکانات پر روشنی ڈالی، جبکہ سجاد علی نے پانی چوری کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کو قابل تحسین قرار یا۔
کسانوں کی خوشحالی اور زرعی برآمدات کا ہدف
مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کا مقصد کاشتکاروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید مشینری، بہتر آبپاشی، زرعی تحقیق اور منڈیوں تک رسائی کی سہولت دینا ہے۔ان کے مطابق زرعی پیداوار میں اضافے، فصلوں کی پراسیسنگ، اسٹوریج اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے اور اضافی پیداوار کو عالمی منڈیوں میں فروخت کرکے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔