قصور: کنگن پور میں مبینہ طور پر زہریلی کھیر کھانے سے 3 نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعے کا صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے نوٹس لے لیا ہے۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہلاکتوں کی وجوہات معلوم کرنے اور حقائق سامنے لانے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق کنگن پور میں تین نوجوانوں کی مبینہ طور پر زہریلی کھیر کھانے سے ہلاکت کا واقعہ سامنے آنے کے بعد صوبائی وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ڈپٹی کمشنر قصور سے واقعے کی رپورٹ طلب
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے ڈپٹی کمشنر قصور سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے کہ تینوں نوجوانوں کی ہلاکت کس وجہ سے ہوئی۔حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ حقائق سامنے لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جاسکے۔
ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت
رانا محمد اقبال خان کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی کی غفلت یا قانون شکنی سامنے آئے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں ضروری اقدامات کیے جائیں اور واقعے سے متعلق حقائق کو واضح کیا جائے۔
ہلاکتوں کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی
کنگن پور میں تین نوجوانوں کی ہلاکت کے معاملے میں اب تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا کھیر میں زہریلا مادہ موجود تھا یا ہلاکتوں کی کوئی دوسری وجہ تھی۔