چونیاں میں زہریلی کھیر کھانے سے نوجوان جاں بحق، ایک ہی خاندان کے 4 افراد وینٹی لیٹر پر منتقل

چونیاں میں زہریلی کھیر کھانے سے نوجوان جاں بحق، ایک ہی خاندان کے 4 افراد وینٹی لیٹر پر منتقل

 پنجاب کی تحصیل چونیاں کے قصبے کنگن پور میں مبینہ طور پر مضرِ صحت کھیر کھانے سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا، جب کہ اسی گھر کے دیگر چار افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

 متاثرہ افراد کو لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں نوجوان نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔تفصیلات کے مطابق کنگن پور کے نواحی گاؤں محمود خانیکے میں چار روز قبل ایک ہی گھر کے پانچ افراد کی کھیر کھانے کے بعد اچانک طبیعت بگڑ گئی تھی۔ متاثرہ افراد میں گھر کا سربراہ قاسم علی، ان کی اہلیہ حسنہ بی بی اور تین بیٹے شامل تھے۔ تمام افراد کو طبی امداد کے لیے لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری تھا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان کے 25 سالہ بیٹے ناظم کی حالت زیادہ خراب تھی، جو دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے میں متاثرہ دیگر چار افراد کی حالت بھی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

کھیر میں چھپکلی گرنے کا شبہ
ذرائع کے مطابق کھیر کھانے کے کچھ ہی دیر بعد خاندان کے تمام افراد کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ابتدائی اطلاعات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھیر میں چھپکلی گرنے کے باعث وہ آلودہ یا مضرِ صحت ہو گئی تھی، تاہم اس دعوے کی تاحال حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پولیس کی تحقیقات شروع
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جب کہ کھیر کے نمونے حاصل کرکے ان کی جانچ کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ نمونوں کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کھیر میں کون سا مضرِ صحت مادہ موجود تھا اور خاندان کے افراد کی حالت بگڑنے کی اصل وجہ کیا تھی۔