تحریک انصاف ارکان کی اکثریت مذاکرات کی حامی
ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، ارکان کے قیادت سخت سوالات،سہیل آفریدی،اچکزئی، ناصرعباس پر اظہاراعتماد ، بانی پی ٹی آئی بیمار ،سہیل آفریدی کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی پڑی تھی: مشعال یوسفزئی ، گورنر راج کی آڑ میں مخالفین ناجائز فائدہ اٹھا رہے:گوہر
اسلام آباد(بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان لانگ مارچ کی حکمت عملی پر پھٹ پڑے اور پلان اے بی سی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے جبکہ مذاکرات پر زور دیا اور قومی اسمبلی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز جبکہ سہیل آفریدی پر بطور وزیراعلیٰ اعتماد کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورت حال، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ، اراکین کی مبینہ گمشدگی اور دیگر معاملات پر گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کی حکمت عملی پر ارکان پھٹ پڑے اور قیادت سے سوال کیا کہ پلان اے، بی، سی اور ڈی کا شور مچایا گیا مگر عملی منصوبہ نظر نہیں آیا۔ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی حکمت عملی بنی مگر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، ناکام حکمت عملی کی وجہ سے ایک صوبے میں حکومت چلی گئی، پارٹی کا ردعمل کہاں ہے؟پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں آئندہ لائحہ عمل پر ارکان کی رائے طلب کی گئی جبکہ اجلاس میں ارکان نے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا ٹاسک دینے اور سیاسی رابطوں میں ناکامی پر بھی سوالات کیے۔اجلاس میں ارکان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر خاموشی چھوڑ کر پارلیمانی پارٹی کو متحرک کرکے مؤثر ردعمل دینے کی تجویز دی جبکہ حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاج کا دائرہ بڑھانے پر بھی مشاورت کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی ور علامہ ناصر عباس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا جبکہ کور اور سیاسی کمیٹی کے ساتھ پارلیمانی کمیٹی کے فورم کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں میڈیا پر ارکان کی اپنی پارٹی کے خلاف بیانات پر بھی تنقید کی گئی جس پر فوزیہ ارشد نے کہا کہ میڈیا پر اپنوں کے حوالے سے ہمارے اراکان کے بیانات قابل تشویش ہیں، پارٹی چیئرمین بیانات کی تحقیقات کریں۔اجلاس میں مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بیمار ہیں اس کے باوجود سہیل آفریدی کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی پڑی تھی۔ذرائع کے مطابق اسد قیصر نے سہیل آفریدی ، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا دفاع کیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی ،محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں شفقت اعوان نے کہا کہ اپنے ممبران یا سہیل آفریدی پر الزام نہ لگائیں، دہشتگردی پر گورنر راج کمیٹی ممبر بھی سہیل آفریدی جیسا موقف رکھتا ہے۔ذرائع کے مطابق شفقت اعوان نے کہا کہ ہمارے ممبران ایسے بیانات دے کر پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بجائے ہمارے ارکان اپنوں پر الزام لگا رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ارکان کی اکثریت نے کہا کہ ہمیں ہر صورت مذاکرات کرنے چاہئیں، اجلاس میں نور الحق قادری نے تین مرتبہ کہا مذاکرات، مذاکرات، مذاکرات جس پر سب نے تالیاں بجائیں۔دریں اثنا پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوء چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا سیاسی مسائل کے حل کیلئے حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات ہونے چاہئیں، ایمرجنسی اور گورنر راج کی آڑ میں سیاسی مخالفین ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بندش ختم ہونی چاہیے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بندش کو 375 دن ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنا اور اہلخانہ سے ملاقات نہ کروانا غیر انسانی سلوک ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتیں تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتوں کی بندش سے سیاسی معاملات میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، سیاسی کشیدگی اور سیاسی انتقام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔