نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات تھے تو اقتدار میں کیوں آئے حافظ نعیم الرحمن

 جواب دینا ہوگا   وہ 70 ہزار جعلی ووٹوں کی بنیاد پر کیسے جیتے ‘ اسمبلی میں کس نے پہنچایا،نواز شریف کو جواب دینا ہوگا  ووٹ کو کتنی عزت ملی
27ویں آئینی ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا‘حکومت فارم 47 کی بنیاد پر قائم ہے، اس لئے نواز شریف کو حقائق پر مبنی بات کرنی چاہیے
 مقامی حکومتوں کے اختیارات کی بحالی کیلئے لائحہ عمل تیار ہے ،7 اور 8 دسمبر کو  اس قانون کے خلاف احتجاج کیا جائیگا:پریس کانفرنس
لاہور(خصوصی رپورٹر )جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا  ہے  سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سب سے پہلے یہ جواب دینا ہوگا  وہ 70 ہزار جعلی ووٹوں کی بنیاد پر کیسے جیتے اور انہیں اسمبلی میں کس نے پہنچایا،نواز شریف کے اگر اسٹیبلشمنٹ سے واقعی اختلافات تھے تو پھر اقتدار میں کیوں آئے،نواز شریف کو جواب دینا ہوگا  ووٹ کو کتنی عزت ملی، انہوں نے  مقامی حکومتوں کے اختیارات کی بحالی  کیلئے  لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ   سات اور آٹھ دسمبر کو پنجاب بھر میں اس قانون کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔۔منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی بنیاد پر قائم ہے، اس لیے نواز شریف کو حقائق پر مبنی بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے اسٹیبلشمنٹ سے واقعی اختلافات تھے تو پھر اس بار اقتدار میں کیوں آئے اور اسی کے ساتھ مل کر جمہوریت پر حملہ کیوں کیا۔حافظ نعیم الرحمن کے مطابق، جب ن لیگ کی قیادت ناراض ہوتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے لگاتی ہے اور جب مفاہمت ہو جاتی ہے تو اس کے حق میں نعرے بلند کیے جاتے ہیں، اس لیے نواز شریف کو جواب دینا ہوگا کہ ووٹ کو کتنی عزت ملی۔  انہوں نے تین روزہ اجتماع عام کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدل دو نظام تحریک کے سلسلے میں تمام بڑے شہروں کے امرا کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے اور ستائیسویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے، جسے قبول نہیں کیا جائے گا‘ فارم 47 والی پارلیمنٹ نے جو بلدیاتی قانون منظور کیا ہے وہ کالا قانون ہے اور اس کے خلاف عدالتوں اور سڑکوں پر جائیں گے۔