ناموسِ رسالت ، قانون کی بالادستی اور حکومت کی ذمہ داری

لبیب احمد
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کے ایمان، عقیدت اور قلبی وابستگی کا انتہائی محترم اور حساس معاملہ ہے۔ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ اسی لیے جب بھی کوئی ایسا بیان، تحریر یا طرزِ عمل سامنے آئے جس سے مسلمانوں کے جذباتِ عقیدت مجروح ہونے کا خدشہ ہو تو معاشرے میں تشویش پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ تاہم ایسے حساس معاملات میں جذبات کے ساتھ ساتھ قانون، تحقیق، انصاف اور ذمہ داری کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان میں توہینِ رسالت سے متعلق قوانین موجود ہیں اور ان قوانین کے تحت کسی بھی مبینہ واقعے کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ ریاستی اداروں، تحقیقاتی حکام اور عدالتوں کا کام ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی فرد کے بارے میں کوئی قابلِ اعتبار شکایت یا مواد سامنے آتا ہے تو اسے نظرانداز نہ کرے، بلکہ قانون کے مطابق اس کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائے۔ اگر تحقیقات کے نتیجے میں کسی جرم کے شواہد موجود ہوں تو متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے، اور اگر الزام ثابت نہ ہو تو کسی شہری کو محض افواہ، سوشل میڈیا مہم یا غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے۔
حال ہی میں فرزانہ باری کے حوالے سے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایسے معاملے میں حکومت سے یہ مطالبہ بجا طور پر کیا جا سکتا ہے کہ وہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی کرے  متعلقہ شخص کا مؤقف سنے اور اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ البتہ کسی بھی فرد کے بارے میں جرم کا حتمی فیصلہ عدالت کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے مقدس موضوع کو سیاسی، ذاتی یا شہرت کے حصول کے لیے استعمال کرنا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ کسی بھی شخصیت کو، خواہ وہ معروف ہو یا غیر معروف، مذہبی شخصیات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے غیر معمولی احتیاط، علمی دیانت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح کسی بیان کو سوشل میڈیا پر پھیلانے والوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مکمل ویڈیو، اصل الفاظ اور سیاق و سباق کی تحقیق کریں۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو یا ایک جملے کی بنیاد پر پورا مقدمہ قائم کرنا نہ علمی طور پر درست ہے اور نہ قانونی طور پر۔
حکومت کے لیے سب سے اہم امتحان یہی ہے کہ وہ قانون کو جذبات سے بالاتر ہو کر نافذ کرے۔ اگر کسی شہری کے خلاف شکایت ہے تو اس کی قانونی حیثیت طے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں۔ پولیس کو شکایت کی تحقیقات کرنی چاہئیں، ماہرین سے ضرورت پڑنے پر رائے لی جانی چاہیے اور مقدمہ بنتا ہو تو قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ اس پورے عمل میں کسی بھی فریق پر دباؤ ڈالنے، دھمکانے یا تشدد کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ صرف قانون کے نفاذ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی اخلاق کا بھی امتحان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں عدل، حکمت، صبر، سچائی اور حسنِ اخلاق کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ظلم، جھوٹ، بہتان یا قانون شکنی سے اجتناب کریں۔ اگر کوئی شخص واقعی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے؛ لیکن کسی فرد کے خلاف غیر قانونی اقدام کرنا یا ہجوم کے ذریعے فیصلہ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان میں اس حساس قانون کے حوالے سے ایک اہم اصول یہ بھی ہونا چاہیے کہ قانون ہر شہری کے لیے یکساں ہو۔ کسی بااثر شخص، معروف شخصیت، سیاسی کارکن یا عام شہری کے لیے الگ الگ معیار نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر حکومت یہ تاثر دے کہ قانون شخصیت، شہرت یا سیاسی وابستگی دیکھ کر حرکت میں آتا ہے تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ریاست واضح، شفاف اور قانونی طریق? کار اختیار کرے تو معاشرے میں اعتماد پیدا ہوگا۔
حکومت سے یہ بھی گزارش ہے کہ ایسے معاملات میں فوری طور پر حقائق کی وضاحت کرے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ایک غیر مصدقہ خبر چند گھنٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ نتیجتاً کسی شخص کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اصل ویڈیو، بیان یا واقعہ کچھ اور تھا۔ اس لیے سرکاری اداروں کو چاہیے کہ حساس مذہبی معاملات میں بروقت اور مستند معلومات فراہم کریں تاکہ افواہوں کا راستہ روکا جا سکے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص بغیر تحقیق کے کسی پر سنگین الزام لگا دے، اور مذہبی جذبات کا احترام کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کسی غیر مصدقہ الزام کو حقیقت سمجھ کر پھیلایا جائے۔ صحافت کا بنیادی اصول تحقیق ہے۔ مذہبی معاملات میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ کسی بیان کی خبر نشر کرنے سے پہلے اصل ذریعہ، مکمل سیاق و سباق اور متعلقہ فرد کا مؤقف جاننا ضروری ہے۔
اسی طرح مذہبی رہنماؤں، علما، دانشوروں اور سماجی شخصیات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں واقعی قانون شکنی کا شبہ ہو تو عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے متعلقہ اداروں سے رجوع کرنے کی تلقین کی جانی چاہیے۔ ایک باشعور معاشرہ اپنے مقدسات کا احترام بھی کرتا ہے اور انصاف کے اصولوں کی حفاظت بھی۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا قانون کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری ہے؟ جواب یہ ہے کہ حکومت کا کردار مرکزی ہے، لیکن معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ شہری اگر افواہوں کے بجائے تحقیق کو ترجیح دیں، الزام کے بجائے ثبوت کی بات کریں، اور اشتعال کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں تو معاشرہ بہت سے بحرانوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تمام شکایات کے لیے مؤثر، شفاف اور قانون کے مطابق نظام کو مضبوط بنائے۔ تفتیشی اداروں کی صلاحیت بہتر کی جائے، حساس مقدمات میں قانونی ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی معاونت حاصل کی 
جائے، اور عدالتی عمل کو غیر ضروری دباؤ سے محفوظ رکھا جائے۔ اس سے نہ صرف حقیقی مجرم قانون کے کٹہرے میں آسکیں گے بلکہ بے گناہ افراد بھی جھوٹے یا کمزور الزامات سے محفوظ رہیں گے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کسی بھی مبینہ واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے پہلے یہ طے کرے کہ بیان واقعی متعلقہ فرد کا ہے یا نہیں، اس کا مکمل متن کیا ہے، اسے کس سیاق میں بیان کیا گیا، اور کیا اس میں واقعی قانون کے تحت جرم کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ محض سوشل میڈیا کے رجحان یا عوامی غصے کو قانونی ثبوت کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہماری اجتماعی زندگی میں انتہائی بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں الفاظ کے انتخاب سے لے کر قانونی کارروائی تک ہر قدم انتہائی ذمہ داری سے اٹھایا جانا چاہیے۔ جذبات اپنی جگہ محترم ہیں، مگر ریاست کا نظام قانون کے مطابق چلتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مقدسات کا احترام بھی برقرار رہے اور معاشرے میں انصاف بھی قائم ہو تو ہمیں دونوں اصولوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
ریاست کو چاہیے کہ وہ ایک واضح پیغام دے: مقدسات کا احترام ضروری ہے، قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، 
آخر میں حکومتِ پاکستان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہر شکایت کو سنجیدگی سے لے، مگر اسی سنجیدگی کے ساتھ قانونی تقاضوں کو بھی پورا کرے۔رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے لیے صرف جذبات کا نام نہیں؛ یہ اخلاق، عدل، سچائی اور ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اس لیے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے سب سے مضبوط راستہ یہی ہے کہ قانون مضبوط ہو، تحقیق شفاف ہو، عدالت آزاد ہو، افواہوں کا سدباب ہو اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔
حکومت اگر اس اصول کو عملی طور پر نافذ کرے تو ایک طرف مقدسات کے احترام کا پیغام جائے گا اور دوسری طرف پاکستان میں قانون کی بالادستی بھی مضبوط ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے جذبات کو انتشار کے بجائے انصاف، اور اختلاف کو تصادم کے بجائے قانون کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے۔
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام ہر مسلمان کے دل میں زندہ رہے، مگر اس مقدس نام کے ساتھ ہمارا طرزِ عمل بھی ایسا ہو جو عدل، حکمت اور ذمہ داری کی عکاسی کرے۔ ریاست کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ جذباتی ماحول میں بھی قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور ہر شہری کو یہ یقین دلائے کہ انصاف کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے۔