بھارت نے پاکستانی خاتون ساردا بائی کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ اقدام بھارت کے اندرونی خلفشار اور پاکستان کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ساردا بائی کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے اور انہیں بلا تاخیر پاکستان واپس جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ساردا بائی کا پس منظر: ساردا بائی کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر سے ہے، جہاں وہ 1970 میں پیدا ہوئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، ان کی شادی بولانگیر کے ایک ہندو خاندان میں ہوئی اور ان کے بچے بھارتی شہری ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، ساردا بائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس تمام اہم دستاویزات، بشمول ووٹر آئی ڈی، موجود ہونے کے باوجود انہیں بھارتی شہریت نہیں دی گئی۔
بھارتی حکام کی جانب سے دھمکی: بھارتی پولیس حکام نے کہا کہ اگر ساردا بائی نے ملک چھوڑنے کے نوٹس کی تعمیل نہ کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس فیصلے سے بھارتی حکام کا ردعمل پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد کے پیچیدہ حالات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ساردا بائی کا موقف: ساردا بائی نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پاکستان میں کوئی نہیں ہے اور ان کا پاسپورٹ بہت پرانا ہے۔ انہوں نے حکومتی حکام سے درخواست کی کہ انہیں بھارت میں رہنے کی اجازت دی جائے، اور کہا کہ وہ اپنے دو بڑے بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ یہاں رہنا چاہتی ہیں۔
انتہائی تشویش کا اظہار: ساردا بائی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر بھارتی حکومت اور عوام سے درخواست کرتی ہیں کہ انہیں بھارت میں رہنے کی اجازت دی جائے کیونکہ ان کا یہاں کوئی رشتہ نہیں ہے اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ بھارت میں ہی گزرا ہے۔
نتیجہ: ساردا بائی کی کہانی ایک طرف جہاں بھارت میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ اور کشیدگی کی علامت ہے، وہاں دوسری طرف یہ واقعہ بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم اور تشویشناک مسئلہ بن گیا ہے۔ اس سے بھارت کے حکومتی اقدامات کی حقیقت اور اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔