پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو وسط نومبر میں لانگ مارچ کریں گے حافظ نعیم

 وزیراعظم سے ملاقات میں ریلیف کے معاملے پر پیش رفت ہوئی تو  اسی شام اہم اعلان کریں گے،عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے
حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کیلئے واضح پالیسی نہیں‘ مافیاز کے منافع میں اضافہ ہو رہا ہے،  خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی    ختم  کی جائے:پریس کانفرنس
لاہور(خصوصی رپورٹر ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم نے کہا ہے  حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور ایمرجنسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انہوںنے کہا  پیٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی، کیونکہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ مافیاز کے منافع میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتجاج کے نتیجے میں پیٹرولیم قیمتوں میں ریلیف دیا، تاہم یہ کافی نہیں۔ وزرا نے ایک بار پھر جماعت اسلامی کی کمیٹی سے رابطہ کیا ہے، لیکن جماعت اپنے موقف پر قائم ہے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں ریلیف کے معاملے پر پیش رفت ہوئی تو   اسی شام اہم اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آئل ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع اور مارجن میں کمی کرکے عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ حکومت کو سود کے خاتمے اور پالیسی ریٹ میں کمی کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہییں۔ حافظ نعیم  کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے ۔ عوام کو ریلیف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں ۔ 26ویں آئینی ترمیم سے عدالتی نظام مزید کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل سے نظام درست نہیں ہو سکتا۔ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لئے واضح پالیسی نہیں