بانی کی رہائی کی تحریک کو الہامی طاقت، قوالی کا اضافہ موزوں ہوگا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کی پشاور میں اجتماعی دعا کے اہتمام کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جدوجہد میں وجد اور روحانی توانائی بھرنی ہے،تو پھر قوالی کا اضافہ بھی نہایت موزوں ہوگا۔اپنے ایک بیان میں سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی یہ تجویز کہ پشاور میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جائے،واقعی وقت کی ضرورت اور حالات کی سنگینی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے،ہم سب ان معصوم اور مظلوم جانوں کیلئے دعاگو ہیں جن کا انتقال 26 نومبر کے سانحے میں ہوا۔ اللہ تعالی ان سب کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔تاہم، جس روحانی راستے کا آپ نے انتخاب فرمایا ہے، اس کے ساتھ ایک لطیف مشورہ بھی عرض ہے اگر خان صاحب کی رہائی کی تحریک کو الہامی طاقت دینی ہے،اگر جدوجہد میں وجد اور روحانی توانائی بھرنی ہے،تو پھر قوالی کا اضافہ نہایت موزوں ہوگا۔انہوں نے مزید لکھا کہ یہ قوالی نہ صرف دلوں میں جوش پیدا کرے گی بلکہ جماعت کے روحانی مزاج کو بھی تقویت ملے گی اور اس سفرِ نجات میں ایک نیا وجدانی پہلو شامل ہو جائے گا۔اور ہاں، جب یہ سلسلہ چل پڑے تو اگلے مرحلے میں روحانی احتجاج بمع دھمال بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔آخر وہی راستہ انسان کو اس مقامِ یقین تک پہنچاتا ہے جہاں دلیل کمزور پڑ جائے اور وجد کمال دکھا دے۔