ڈاکٹرخادم حسین خورشید الازھری
۔۔۔۔اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و کرم اور عنایا ہیں جس نے اپنے پیارے محبوب دانائے غیوب رحمت دو جہاں ،سرور انبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تصدق سے ہمیں ہر نعمت لازوال و با کمال عنایت فرمائی، اس پر اپنے پروردگار کا بے پناہ شکر،اللہ ہمیں اپنی تمام نعمتوں برکتوں رحمتوں سے مالا مال ہونے کی سعادت نصیب فرمائے، انعامات خداوندی میں رمضان المبارک کے پاکیزہ لمحات، مقدس ساعتیں، بندگان خدا کو اپنے رب کے حضور خشوع و خضوع سے جھکنے اور سحر و افطار کے لمحات ،ایات بینات کی تلاوت نماز اور صلاۃتراویح کی صورت میں سننے سنانے ،سمجھنے کا موقع عنایت فرمایا انہی پاکیزہ نعمتوں میں پھر کرم بالائے کرم رمضان المبارک کے اخری عشرہ میں لیلتہ القدر کی تلاش، محبوب خدا سرور انبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مقدس عالمگیر فرامین اس بات کی کامل نشاندہی فرماتے ہیں کہ اللہ کو اپنے بندے کا خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور سر بسجود ہونا کتنا پسند ہے، اللہ ہمیں اس عبادت سے ہمیشہ اخلاص و للہیت سے بہرہ ور فرمائے، شب قدر اللہ کے طرف سے بندوں پر اس کے انعام اور کرم نوازیوں کی رات ہے یوں تو کوئی بھی لمحہ اس کی عطا اس کے کرم سے خالی نہیں تاہم جو اس کے اکرام و انعامات شب قدر میں بندگان خدا کو نصیب ہوتے ہیں ان کی کوئی مثال و نظیر نہیں، اس رات میں اس نے اپنا عالمگیر کلام اتارا اور اس کلام الہی کے ذریعے سے اس نے ان گنت نعمتوں کے دروازے محبوب کی پیاری امت کے لیے کھول دیے ،زبان انسان نطق یزداں کی محافظ بنی ،سینہ بشریت لاہوتی کے اثرات کا محرم ہوا ،پیکر اب و گل میں وحی الہی کے فانوس روشن ہو گئے، اس رات کے مجاہدوں پر غروب افتاب سے سپیدہ سحر تک نور برستا رہتا ہے، رحمتیں ہزار گنا بڑھ جاتی ہیں اس رات کا منظر دیکھنے کے لیے فرشتے اسمانوں سے قطار اندر قطار اترتے ہیں اور جب انسان کی عبادتوں کے شکوہ ریاضتوں کے جلال پر ان کی نگاہ پڑتی ہے تو برسوں کے مان ٹوٹ جاتے ہیں لاکھوں سال کی عبادتوں پر ناز کرنے والے قدسیوں کو اس رات کے عابدوں پر حکم ربی سے سلام بھیجنا ہوتا ہے۔۔۔امام مالک بیان کرتے ھیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کی عمر کو کم سمجھا اور یہ کہ وہ اتنے عمل نہیں کر سکیں گے جتنے لمبی عمر والے لوگ کرتے تھے تو اللہ تعالی نے اپ کو لیلتہ القدر عنایت فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے (موطا امام مالک رقم الحدیث 721 )..مجاہد بیان کرتے ہیں رسول مختار شفیع روز شمار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنی اسرائیل کے شخص کا ذکر کیا جو اللہ کی راہ میں ایک ہزار سال تک ہتھیار پہنے رہا مسلمانوں کو اس پر بہت تعجب ہوا تو اللہ رب العزت نے یہ ایت نازل فرمائی انا انزلناہ فی لیلتہ القدر وما ادراک ما لیلتہ القدر لیلتہ القدر خیر من الف شہر ( تفسیر ابن کثیر جلد نمبر 4 صفحہ 593). علی بن عروہ بیان کرتے ہیں ایک دن اللہ کے پیارے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل کے چار لوگوں نے 80 سال تک اپنے رب کی اس طرح عبادت کی کہ پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ تعالی کی نافرمانی نہیں کی اور ان کے نام بھی آپ نے ارشاد فرمائے،حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام، حضرت سیدنا زکریا علیہ السلام، حضرت ھزقیل اور حضرت یوشع بن نون علیہم السلام ،یہ سن کر محبوب خدا سرور انبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصحاب کو تعجب ہوا تب اپ کے پاس حضرت جبرائیل امین ائے اور عرض کی اے اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپ کی امت کو اس پر تعجب ہے کہ ان لوگوں نے 80 سال عبادت کی اور پلک جھپکنے کی مقدار بھی نافرمانی نہیں کی اللہ رب العزت نے اس سے بہتر چیز نازل کی ھے پھر اپ کے سامنے سورۃ القدر کی ایات تلاوت کی اور کہا یہ اس سے افضل ہے جس پر اپ کو اور اپ کی امت کو تعجب ہوا پھر رسول خدا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے تمام غلام اصحاب خوش ہو گئے (تفسیر ابن کثیر جلد نمبر چار صفحہ 593 )..امام دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رحمت دو جہاں ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے میری امت کو لیلتہ القدر عطا فرمائی ہے اس سے پہلے کسی امت کو اس نعمت سے سرفراز نہیں کیا گیا( الدرالمنثور جلد 8صفحہ 522بیروت ).حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم شفیع معظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے روزے رکھے اللہ رب العزت اس کے تمام گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے لیلتہ القدر میں قیام کیا تو اللہ تبارک و تعالی اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے (صحیح بخاری رقم الحدیث 2014 سنن نسائی رقم الحدیث 2206 مسند احمد جلد دو صفحہ 503۔)۔حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں لیلتہ القد ر کی خبر دینے کے لیے تشریف لائے اس وقت دو مسلمان اپس میں لڑ پڑے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں لیلتہ القدر کی خبر دینے کے لیے ایا تھا پس فلاں اور فلاں اپس میں لڑ پڑے تو لیلتہ القدر کے تعین کو اٹھا لیا گیا اور ہو سکتا ہے یہ تمہارے لیے بہتر ہو پس تم اس کو ان 29ویں شب 27 ویں شب اور 25 ویں شب میں تلاش کرو (صحیح بخاری رقم الحدیث 2003 ).شارحین فرماتے ہیں کہ صرف اس سال حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لیلتہ القدر کی تعین کا علم اٹھایا گیا تھا اور دوسرے سال اپ کو پھر اس کا علم عطا فرما دیا گیا (فتح الباری جلد چار صفحہ 778 عمد? القاری جلد 11 صفحہ 197 فیض الباری صفحہ جلد تین صفحہ 183 تبیان القران جلد 12 صفحہ 892)۔محدث کبیر مفسر شہیرحضرت علامہ غلام رسول سعیدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے کہ اس سال شب قدر کے تعین کے علم کو اٹھانے کی حکمت یہ تھی کہ اپ کے لیے لیلتہ القدر کی تعین کو مخفی رکھنے کا عذر ہو جائے کیونکہ اگر اپ علم کیباوجود نہ بتاتے تو یہ اپ کی رحمت کے خلاف تھا اگر بتا دیتے تو یہ اللہ کی حکمت کے خلاف تھا کیونکہ اللہ تعالی کی حکمت یہ تھی کہ لیلتہ القدر کے تعین کو مخفی رکھا جائے تاکہ اللہ کے بندے لیلتہ القدر کی تلاش میں رمضان المبارک کے اخری عشرہ کی ہر طاق رات جاگ کر عبادت میں گزاریں، کیونکہ اللہ تعالی کو اپنے بندوں کا عبادت میں جاگنا پسند ہے اللہ تبارک و تعالی نے اور بھی کئی چیزوں کو مخفی رکھا ہے ،مثلا اللہ کے ولی کو مخفی رکھا تاکہ لوگ ہر شخص کے متعلق یہ گمان کریں کہ ممکن ہے یہی اللہ کا ولی ہو اس کی تعظیم اور تکریم کریں، جمعہ کی جس ساعت میں دعا قبول ہوتی ہے اس کو مخفی رکھا تاکہ مسلمان جمعہ کی ہر ساعت میں دعا کرتے رہیں کہ ممکن ہے یہی قبولیت کے ساتھ ہو ،موت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ انسان ہر وقت نیک کاموں میں مشغول رہے اور برے کاموں سے اجتناب کرتا رہے تاکہ اس کو موت ائے تو نیک کام کرتے ہوئے ائے نہ کہ خدانخواستہ برے کام کرتے ہوئے، اسی طرح قیامت کے وقت کو بھی اللہ تبارک و تعالی نے مخفی رکھا تاکہ ہر لمحہ لوگ ڈرتے رہیں کہ کہیں اسی وقت قیامت نہ اجائے لیلتہ القدر کو بھی اسی لیے مخفی رکھا تاکہ کوئی عادی مجرم اس رات کو بھی گناہوں میں گزار دے تو اس کے نامہ اعمال میں یہ نہ
لکھا جائے کہ اس نے اس کی بے توقیری کی ہے۔۔تاہم فرامین نبوی ارشادات مصطفوی میں آپ نے یہ غور فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک نعمت سے امت کو آگاہ کرنا پسند فرما رہے تھے کہ دو لوگوں کی لڑائی کی وجہ سے اسے مخفی رکھنے کا حکم ھوگیا تو یہ لڑائی کتنا برا عمل ہے کہ اللہ نے اتنی بڑی نعمت کے تعین کے اعزاز سے دور فرما دیا، ہم کئی مرتبہ دیکھتے ہیں کہ بات سلجھتی ہوئی لڑائی جھگڑے کی نوبت پر الجھتی چلی جاتی ہے، صلح قریب ہو تو دور ہو جاتی ہے ،نعمت بٹنے کے قریب ہو تودیرھوجاتی ہے ،یعنی لڑائی کسی صورت بھی انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور اس وقت امت مسلمہ میں ہر طرف سے اپس میں لڑائی ،جھگڑے ،فساد کا ایک ایسا ماحول گرم ہے کہ جس سے ایک دوسرے سے دور، رشتوں میں دراڑیں ،دوستوں میں الجھاو،پڑوسیوں کا اپس میں ایک دوسرے کے لیے دل میں میل ،یہ ساری لڑائیاں جھگڑے فساد اللہ کی نعمتوں سے ہمیں دور کرنے کا باعث ہورھے ہیں ،ائیے ! اس مقدس رات کو ہم عہد کریں کہ ہم تمام لڑائیوں جھگڑوں اختلافات و فسادات سے ہمیشہ دور رہ کر ھرساعت وھرگھڑی محبتیں بانٹیں گے، چاہتیں الفتیں بکھیریں گے،ایک دوسرے کے لیے دلوں کے گلستان میں محبتوں کیپھول سجائیں گے ،تاکہ اللہ کریم ہمیں اپنے پیارے محبوب کے تصدق سے اپنی بارگاہ کی ھرایک عنایت و نعمت سے سرفراز فرمائے، اللہ ہمیں ایک دوسرے سے پیار اور محبت کی توفیق عطا فرمائے ،رب ذوالجلال اس پاک اور مقدس رات کو ہمارے مرحومین کی کامل بخشش اور حضور کریم اقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت نصیب فرماء،ے رب ذوالجلال ہمارے روحانی جسمانی مریضوں کو صحت و عافیت والی لمبی خوشیوں بھری زندگیاں نصیب فرمائے ،اللہ کریم ہمارے مسافروں کو حقیقی منزل عطا فرمائے، حصول رزق میں مصروف اندرون و بیرون ملک مرد و جوان اللہ کریم ان کے لیے حلال رزق کے دروازے کھول دے ،حصول علم میں مصروف طلباء و طالبات کے لیے دنیا عقبی کے ہر امتحان میں سرفرازیاں نصیب فرمائے، رب ذوالجلال بے اولادوں کو نیک صالح نرینہ اولاد نصیب فرمائے ،جو بہنیں بیٹیاں والدین کے گھروں میں ہیں اللہ کریم ان کی رخصتی کے باعزت اسباب اور اعلی رشتے نصیب فرمائے، جو بہنیں بیٹیاں اپنے گھروں والی ہیں رب ذوالجلال ان کو نرینہ اولاد سے مالا مال فرمائے ، امت مسلمہ کو اللہ ترقی وعروج نصیب فرمائے ،سرزمین انبیاء پر دشمنان اسلام سے برسر پیکار مظلوم مجاہدین اسلام فلسطینیوں کو رب ذوالجلال فتح و نصرت عطا فرمائے، ان کے دکھ درد کے انسوؤں کو اللہ رب العزت بیت المقدس کی ازادی کی صورت میں اور انہیں اپنے گھروں کی چھت کی صورت میں اللہ کریم ڈھیر ساری خوشیاں راحتیں عطا فرمائے، کشمیریوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو عزت و کامرانی عطا فرمائے، ہمارے پاک وطن کو سر بلندی و استحکام ،امن ترقی اور نظام نظام مصطفی کی بہار نصیب فرمائے ،جس جس عیار و مکار و سفاک نے میریجنت نظیر ملک پاکستان کو لوٹا قوم کا خون پسینہ چوس کر دوسرے ملکوں میں رکھا اللہ کریم ہر اس عیار و مکار کو اس کی غلیظ ذریت سمیت نشان عبرت بنائے اور پاک وطن کو نیک صالح حکمران نصیب فرمائے اٰمین