فضائل لیلتہ القدر

علامہ ڈاکٹر خادم حسین  خورشید الازہری

۔پاک پروردگار کو اپنی تمام مخلوقات میں محبوب مخلوق حضرت انسان ہے اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ ہمیشہ کرم کا معاملہ فرمایا ہے اور فرماتارھیگا ،بندگان خدا کیلے اپنی اعلی و اشرف بارگاہ میں رسائی  جو اہتمام فرمایا اس میں سب سے بڑی نعمت اس کے جلیل القدر انبیاء￿  کرام علیہم السلام ھیں۔امت مسلمہ کی خوش نصیبی  یہ ھے کہ پروردگار نے تمام انبیاء￿  و مرسلین کے امام و پیشوا تاجدار ختم نبوت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صورت میں اپنا پیارا محبوب عنایت فرما دیا ،آپ کے توسل و تصدق سے اللہ نے ہمیں بے شمار انعام و اکرام اور فضل و احسان کی لازوال نعمتوں سے مالا مال کیا عبادات کی صورت میں قیام ورکوع اور خشوع وخضوع کیساتھ سر بسجود ہونا ،ذکرواذکار اور نوافل کی صورت میں پیشانی اپنے رب کے حضور جھکانا، سخاوت کی صورت میں رب کے عطا کردہ رزق حلال کو مخلوق خدا تک محض اسکی رضا کیلئے منتقل کرنا، غرباء￿  و مساکین کی سرپرستی کرنے کی صورت میں ، بزرگوں کے احترام کی صورت میں، بچوں سے پیار کی صورت میں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن اخلاق کی صورت میں، مسافروں، یتیموں ،مسکینوں ،بیواوں کی بیلوث مدد کی صورت میں  یہ ساری نعمتیں  خالصتاً خاص عنایات ربانی ھیں  جواپنے بندوں کوبہانے سے بخشش ونجات جیسے انعامات سے نوازنے  کے پیکجز ھیں ،رمضان المبارک جیسامقدس مہینہ ،پھراسمیں لیلتہ القدر جیسی عظیم رات ،اسی طرح جمعتہ المبارک جیسی پاکیزہ نعمت،اور ایسے ھی  شعبان المعظم کی نصف شب کی حسین گھڑیاں، ایسی حسین وعالم گیر نعمتوں کا فائدہ اٹھاکر بندہ اپنے گناہوں پر ندامت شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے اپنے پاک پروردگار تواب و رحیم رب کی طرف رجوع کرے تو اللہ کریم کی رحمتیں اگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتی ھیں اور اگر یہ احساس قلب و روح کی گہرائیوں سے بیدار ہو تو پاک پروردگار اپنیبندے کی سیآت کو حسنات میں بدل دیتا ہے ،رب العزت کی یہ ساری رحمتیں اور کرم گستریاں غم امت میں رخسار مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بہنے والے ان آنسوؤں کی قدر دانی کے طور پر ہیں جن کے سینکڑوں شواہد  احادیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ھیں، خیر و بھلائی کے ان پاکیزہ مواقع پر شیاطین اور اس کی ذریت اپنی خواہش کے تکمیل کے لیے اعمال صالحہ سے عجز و انکسار سے گناہوں پر ندامت اور شرمندگی کے احساس سے دور کرنے کی یا پھر لہب و لعب شغل تماشا شرلی پٹاخہ کی صورت میں جبین نیاز کو بارگاہ قدس میں جھکانے سے محروم کرنے کی ناپاک جسارتوں میں مصروف نظر اتی ہے ایسے حسین لمحوں کو اپنے پیدا کرنے والے پاک پروردگار کہ حضور جبین نیاز جھکانا اس سے اس کا فضل اس کی رحمت ،بخشش سمیت جملہ نعمتوں کے حصول کے لیے خالی جھولی پھیلا کر دامن طلب پھیلا کر اس کے کرم کی بھیک مانگنا یہ ہم سب کے لیے نہایت ضروری ھے اللہ کریم ہمیں اس مقدس رات کی جملہ برکات سے مالا مال فرمائے بے اولادوں کونیک صالح اولاد،بیگناہ قیدیوں کورھائی،مقروضوں کوقرض سے نجات،مسافروں کو حقیقی منزل،بیروزگاروں کورزق حلال،حصول علم میں مصروف طلباء￿  وطالبات کو دنیا و آخرت کی کامیابیاں،والدین وبرادران کیگھروں میں بیٹھی رشتہ ازدواج کی منتظر بہنوں بیٹیوں کے لیے اعلی رشتے اور رخصتی کے باعزت اسباب نصیب فرمائے آمین۔۔حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رحمت دو عالم نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی شب برات میں تقدیروں کے فیصلے فرماتا ہے اور شب قدر میں متعلقہ فرشتوں کے سپرد فرما دیتا ہے.. (تفسیر کبیر از امام فخر الدین رازی سورۃالقدر ایت نمبر 4.نظم و دررر للبقاعی سورۃ الدخان ایت نمبر 4)ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مختار شفیع روز شمار صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت چار راتوں میں خیر کا دروازہ کھول دیتا ہے عید الفطر کی شب عید الاضحی کی شب نصف شعبان کی ب کہ اس میں لوگوں کی موت اور رزق کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور حاجیوں کے نام لکھے جاتے ہیں اور عرفہ کی رات میں بھی صبح کی اذان تک خیر کا دروازہ کھلا رہتا ہے( تاریخ بغداد از خطیب بغدادی خطیب تفسیر در منصور جلد نمبر سات صفحہ نمبر 402 غنیت الطالبین کنز الاعمال صفحہ نمبر 144 جلد نمبر 12۔)مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم روایت فرماتے ہیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب 15 شعبان کی شب ائے تو رات قیام یعنی عبادت کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو پس بے شک سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا پر اللہ تعالی اپنی خاص رحمت نازل فرما کر ارشاد فرماتا ہے ہے کوئی تم میں سے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں ہے کوئی تم میں سے رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اس کو عافیت دوں ہے کوئی ایسا یہ اوازیں طلوع فجر تک مسلسل آتی رہتی ہے( الترغیب و ترہیب جلد نمبر دو صفحہ نمبر 74 میزان الاعتدال جلد نمبر چار صفحہ نمبر 54 تہذیب الکمال جلد نمبر 33 صفحہ نمبر 107 جمع الجوامع حدیث نمبر 26 32 کنز الاعمال جلد نمبر 12 صفحہ 140 تفسیر در منصور تفسیر قرطبی تفسیر روح المعانی تحت الدخان سور? الدخان ایت نمبر چار تفسیر ضیاء￿  القران جلد نمبر چار صفحہ نمبر 43۔)حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں جان کائنات رحمت دو جہاں ختمء مرتبت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب 15 شعبان اتی ہے تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے اور مومنوں کے لیے مغفرت عنایت فرماتا ہے کافروں کے لیے جہنم اور وہ کینہ پروروں کو ان کا کینہ دور کرنے کے لیے بلاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کو پکار اٹھتے ہیں اور اپنا کینہ چھوڑ دیتے ہیں( طبرانی کبیر جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 224۔۔شعب الایمان جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 381. مجمع الزوائد جلد نمبر 8صفحہ نمبر 17 .جامع الاحادیث رقم  2620۔۔کنز العمال جلد نمبر 12 صفحہ نمبر 141.)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں حضور نبی کریم  نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی شب برآت میں اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے اور مشرک اور مشاحن کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ( طبرانی جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 108۔شعب الایمان بیہقی جلد تین صفحہ 382۔ صحیح ابن حبان جلد پانچ صفحہ 351۔ابن عساکر جلد 38 صفحہ235. مجمع الزوائد ھیثمی جلد 8 صفحہ 26)  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب برات کو اللہ تعالی سوائے مشرک اور کینہ پرور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے .(مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 126. تاریخ بغداد جلد نمبر 14 صفحہ 285.جامع الاحادیث از امام سیوطی رقم الحدیث 2623.)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک کی زندگیاں ختم کر دی جاتی ہیں یہاں تک کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ وہ نکاح کرے اور اولاد جنم دے لیکن اس کا نام مردوں میں ا چکا ہوتا ہے (جامع الاحادیث از امام سیوطی رقم الحدیث10917.  تفسیر در منصور و تفسیر خازن از 
سورت الدخان ایت نمبر 4)حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ تعالی عنہ اپنے چچا اور دادا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں جان عالم رحمت کائنات حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب شب برات ہوتی ہے تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور سوائے مشرک اور اپنے بھائی کے لیے کینہ رکھنے والے کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (کنز الاعمال جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 187 شرح السنہ جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 200 شعب الایمان بیہقی جلد نمبر 3صفحہ 380 مسند ابی بکر الصدیق صفحہ نمبر 171 جامع الاحادیث از امام سیوطی رقم الحدیث 26 25 تاریخ الخلفاء￿  صفحہ نمبر 2725 )حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں حضور نبی کائنات فخر موجود صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب نصف شعبان کی شب اتی ہے تو اواز دینے والا اواز دیتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اس کی مغفرت کر دوں ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو عطا کر دوں چنانچہ جو کوئی بھی مانگتا ہے پاک پروردگار کی طرف سے ہر ایک کو عطا کر دیا جاتا ہے سوائے  زنا کرنیوالے،زناکرنے والیوں کے اور مشرکوں کے۔(جامع الاحادیث از امام سیوطی رقم الحدیث 26 22 کنز الاعمال جلد 12 صفحہ 140 شعب الایمان از امام بیہقی جلد نمبر 3صفحہ نمبر 383)ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت فرماتی ہیں کہ نصف شعبان کی شب محبوب خدا سرور انبیاء￿  صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے پاس تشریف لائے چنانچہ آپ بستر پر جلوہ فرما ہوئے پھر ٓاپ کھڑے ہوئے اور خود پر پانی بہایا پھر اپ تیزی سے باہر تشریف لے گئے چنانچہ میں بھی اپ کے پیچھے گئی تو اپ جنت البقیع میں سجدہ کی حالت میں تھے۔(لسان المیزان جلد نمبر 5 صفحہ 426 میزان الاعتدال امام ابن حجر عسقلانی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 65)۔ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں حضور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے پاس( رات کو )تشریف لائے ابھی (آپ نے  آرام فرمانیکی غرض سے تبدیل کرنے کیلئے )مکمل کپڑے بھی نہیں اتارے تھے کہ کھڑے ہوئے اور دوبارہ زیب تن فرما لیے اور( پھر تشریف لے گئے )آپ کے جانے کا مجھے بہت زیادہ دکھ ہوا یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ شاید آپ کسی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں چنانچہ میں اپ کو ڈھونڈنے کے لیے باہر آئی تو میں نے آپ کو جنت البقیع میں پایا وہاں آپ مومن مردوں ,عورتوں اور شہداء￿  کے لیے دعائے مغفرت فرما رہے تھے میں نے عرض کیا  میرے ماں باپ اپ پر قربان ہوں آپ اپنے رب کے کام میں مصروف ہیں اور میں دنیا کے معاملات سمجھی چنانچہ میں گھر واپس لوٹی تو میری سانس بہت زیادہ پھولی ہوئی تھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ یہ سانس کیسے پھولی ہوئی ہے میں نے عرض کیا  میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ علیک السلام اپ تشریف لائے اور (آرام فرمانے کیلئے لباس تبدیل فرماتے ھی اچانک ) دوبارہ تیار ہو کر تشریف لے گئے تو مجھے شدید غیرت آئی کہ شاید اپ کسی دوسری زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں یہاں تک کہ میں نے اپ کو جنت البقیع میں دیکھا وہاں اپ جو عمل فرما رہے تھے وہی فرما رہے تھے (وہ آپ ہی کی شان کے لائق تھا )آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ تم اس بات سے گھبرا گئی کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تم سے خیانت کریں گے میرے پاس جبریل امین علیہ السلام ائے اور انہوں نے کہا کہ یہ رات نصف شعبان کی( شب برآت )ہے اور اللہ تعالی اس رات میں قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو جہنم سے ازاد فرما دیتا ہے لیکن اللہ تعالی شرک کرنے والے کی طرف، تعلقات توڑنے والے ،تکبر کرنے 
والے اور والدین کے نافرمان ،شراب بنانے، پینے والے کی طرف نظر کرم سے نہیں دیکھتا پھر آپ نے کپڑے رکھے اور فرمایا کہ اے عائشہ کیا تم مجھے اس رات عبادت کرنے کی اجازت دیتی ہو میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان جی آقا، آپ نے کچھ قیام فرمایا اور پھر آپ نے طویل سجدہ فرمایا وہ سجدہ اتنا طویل ہوا کہ میں نے گمان کیا کہ شاید آپ کی روح مقدس خدا نخواستہ پرواز کر گئی ہے میں آپ کو چھونے کے لیے اٹھی اور آپ کے ہائے اقدس کو ہاتھ لگایا تو آپ نے حرکت فرمائی مجھے اطمینان ہوا   میں نے آپ کو سجدہ میں یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ میں تیری سزا سے تیرے عفو کی پناہ مانگتا ہوں ،تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیرے چہرے کے جلال کی پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ویسی حمد و ثنا بیان نہ کر سکا جیسی تو خود اپنے لیے بیان فرما سکتا ہے اسی طرح دعائیں کرتے کرتے آپ نے ساری رات گزار دی چنانچہ جب صبح ہوئی تو میں نے انہیں یاد کرنے کی غرض سے عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ تم بھی سیکھ لو اور آگے بھی سکھا دینا کیونکہ مجھے یہ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا ہے اور مجھے کہا ہے کہ میں انہیں سجدوں میں بار بار پڑھتا رہوں .(شعب الایمان جلد نمبر 3 صفحہ 383 ابن اساکر جلد نمبر 36 صفحہ 155 جامع الاحادیث رقم الحدیث 43 378 تفسیر در منصور جلد نمبر سات صفحہ نمبر 403 غنیتہ الطالبین جلد نمبر ایک صفحہ نمبر 346۔)