آئرلینڈ مغربی کنارے کی اسرائیلی مقبوضہ غیر قانونی بستیوں سے تعلق رکھنے والی مصنوعات اور تجارتی اشیاء پر مکمل پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آئرش وزیرِ خارجہ و تجارت سیمون ہیرس نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ 19 جولائی 2024 کو عالمی عدالت انصاف (ICJ) کی جانب سے جاری ہدایات کی روشنی میں کیا گیا۔ ICJ نے واضح طور پر کہا تھا کہ اسرائیل کی مغربی کنارے پر بنائی گئی غیر قانونی بستیوں سے درآمدات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور ان پر پابندی عائد کی جائے۔وزیر خارجہ نے بیان میں کہا:"آئرش عوام فلسطین میں جاری صورتحال پر سخت تشویش رکھتے ہیں، اور حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ ہم جو کچھ بھی کر سکیں گے وہ کریں گے تاکہ فلسطین میں امن قائم ہو اور دو ریاستی حل کو تقویت ملے۔
"انہوں نے مزید کہا کہ ان بستیوں کی موجودگی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے اور انہی کی وجہ سے فلسطین و اسرائیل کے مابین دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔آئرش حکومت کے مطابق جیسے ہی یہ قانون پارلیمان سے منظور ہوگا، کسٹمز ایکٹ 2015 کے تحت ان بستیوں سے منسلک درآمدات کو "سنگین جرم" قرار دیا جائے گا۔یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی کشیدگی جاری ہے، اور دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔
پس منظر:
یورپی یونین کی بیشتر ریاستیں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی تسلیم کرتی ہیں، مگر عملی طور پر تجارتی بائیکاٹ کا یہ پہلا قدم آئرلینڈ کی طرف سے اٹھایا گیا ہے۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور اقوام متحدہ کئی بار اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دے چکے ہیں۔