7 سال قبل قانون منظوری کے باوجود عملدرآمد کیلئے ضروری قواعد نافذ نہ کیے جا سکے
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب میں ڈومیسٹک ورکرز کے حقوق سے متعلق قانون بنے 7 سال گزرنے کے باوجود لاکھوں گھریلو ملازمین آج بھی سوشل سکیورٹی اور طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ قانون کی منظوری کے باوجود اس پر عملدرآمد کیلئیضروری قواعد (رولز)تاحال نافذ نہ کیے جا سکے، جسکے باعث ڈومیسٹک ورکرز کو کوئی عملی فائدہ نہ ہو سکا۔ قواعد نہ بننے پر سوشل سکیورٹی اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں۔قانون کے مطابق ڈومیسٹک ورکرز کو طبی سہولیات فراہمی کیلئے خصوصی انڈومنٹ فنڈ قائم ہونا تھامگر یہ ابتک فعال نہیں ہو سکا۔ اسکے باوجود سوشل سکیورٹی ادارے کی جانب سے ہزاروں ڈومیسٹک ورکرز کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا، تاہم رجسٹریشن کے باوجود انہیں مفت علاج و دیگر سہولیات نہ مل سکیں جبکہ سیکرٹری لیبر دانش افضال کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک ورکرز سے متعلق قواعد تیار کر لیے گئے ہیں اور جلد منظوری کیلئے صوبائی کابینہ سے رجوع کیا جائے گا۔ قواعد منظوری کے بعد قانون پر عملدرآمد کا آغاز ہو سکے گا۔