امریکہ کی ریاست ہوائی میں 48 سال قبل ہونے والے قتل کا مجرم جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کے ذریعے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
یہ واقعہ 21 مارچ 1977 کو ہونولولو کے ایک سکول میں پیش آیا تھا، جہاں 16 سالہ طالبہ ڈان موموہارا کی لاش ملی تھی۔ لاش کی حالت سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ طالبہ کو قتل کرنے سے قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس نے اس قتل کی تحقیقات کا آغاز کیا اور کئی افراد سے انٹرویو کیے لیکن مجرم کی شناخت نہ ہو سکی۔پولیس نے 2020 میں جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے مقتولہ طالبہ کے کپڑوں سے مجرم کا ڈی این اے نمونہ جمع کیا تھا۔ اس ڈی این اے کا تجزیہ کرنے کے بعد 2023 میں تحقیقات کے دوران یہ پتا چلا کہ یہ ڈی این اے ہونولولو کے ایک سابق طالب علم گیڈیئن کاسٹرو اور اس کے بھائی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔مقتولہ کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ یہ ڈی این اے 66 سالہ گیڈیئن کاسٹرو کا تھا۔
اس کے بعد پولیس نے گیڈیئن کاسٹرو کو گرفتار کرلیا اور اس پر قتل کا الزام عائد کیا۔ پولیس نے بتایا کہ جب تحقیقات کا آغاز ہوا تھا تو گیڈیئن سے بھی تفتیش کی گئی تھی اور اس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ مقتولہ طالبہ سے مل چکا تھا، لیکن اس وقت پولیس کو اس پر شک نہیں تھا۔گیڈیئن کاسٹرو کو حراست میں لے کر قتل کے مقدمے میں شامل کر لیا گیا ہے، اور اس پر الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے۔ اس واقعہ کا انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے پرانے اور پیچیدہ مقدمات کو حل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔