پنجاب حکومت کی جانب سے جرمانوں سے سالانہ 10 سے 12 ارب وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے
لاہور میں کل وصولی کا 50 فیصد حصہ چالانوں سے حاصل کیا جاتا ہے ، حکام کا تصدیق یا تردید سے گریز
لاہور (ذیڈ این این) پنجاب میں شدید مالی بحران کے باعث لاکھوں ڈرائیونگ لائسنسوں کے کارڈز کی پرنٹنگ التوا کا شکار ہو گئی، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے ٹریفک چالانوں میں مزید اضافے پر غور کر رہی ہے۔ محکمہ مالیات پنجاب کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹریفک چالان اور جرمانوں کی مد میں سالانہ ریونیو کا ہدف 10 سے 12 ارب روپے مقرر کر رکھا ہے، جس کا 40 سے 50 فیصد حصہ صرف لاہور سے حاصل کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں ماہانہ 20 سے 30 کروڑ روپے کے ای چالان جنریٹ ہوتے ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے ماہانہ 50 سے 70 کروڑ روپے کے چالان جمع کیے جاتے ہیں۔ کم عمر ڈرائیورز، بغیر لائسنس ڈرائیونگ اور غیر قانونی پارکنگ پر جرمانے 500 سے بڑھا کر 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک کیے گئے تھے، تاہم متعلقہ حکام نے جرمانوں میں مزید اضافے کی تصدیق یا تردید سے فی الحال گریز کیا ہے۔