کوئٹہ: بلوچستان میں گورنر ہاؤس (جانان ہاؤس) کے باہر پولیس اہلکار کی غیر ارادی فائرنگ سے 3 طلبہ اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ جمعۃ المبارک دوپہر 12 بجے پیش آیا جب گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ژوب کے طلبہ تعلیمی مسائل کے سلسلے میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ فائرنگ ایس ایچ او کے گن مین کی رائفل سے غیر ارادی طور پر ہوئی، جس کی وجہ یا تو تکنیکی خرابی یا ہینڈلنگ میں غفلت بتائی گئی ہے۔ زخمی طلبہ کے بازو اور ٹانگوں پر زخم آئے جبکہ 2 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ژوب منتقل کیا، جہاں تینوں طلبہ کی سرجری مکمل ہو گئی اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ دو پولیس اہلکار ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیے گئے۔ زخمی طلبہ کی عمریں 18 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔گورنر بلوچستان نے زخمی طلبہ سے اسپتال میں ملاقات کی اور ان کے مکمل علاج کا خرچہ اٹھانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت اور ہتھیاروں کی باقاعدہ چیکنگ کے احکامات جاری کیے۔واقعے کے بعد طلبہ اور مقامی رہنماؤں نے احتجاج کیا، لیکن گورنر کی معذرت اور فوری معاوضے کے اعلان کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔ سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس ہتھیاروں کی انسپکشن اور تربیتی پروگرامز کو لازمی بنایا جائے۔ضلعی انتظامیہ نے زخمی طلبہ کے خاندانوں سے رابطہ کر کے مالی امداد کا وعدہ کیا جبکہ صوبائی حکومت نے گورنر ہاؤس کے سکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ اہلکار کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔