سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن پیشی، وکیل نے مریم نواز کے خلاف کارروائی کیلئے درخواست دی، ،فیصلہ محفوظ ، طلال کے کیس کا عبوری حکم نامہ جاری
اسلام آباد، پشاور ( مانیٹرنگ ڈیسک )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے خلاف سہیل آفریدی کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ محفوظ کرلیا۔منگل کو وزیراعلی ٰخیبر پختونخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیش ہو ئے، این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخابات کے دوران انتخابی جلسے سے خطاب میں وزیراعلیٰ پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف درخواست جمع کرادی، جس میں کہا گیا ہے کہ این اے 18 سے ملحقہ حسن ابدال میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان پر وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف کارروائی کی جائے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ درخواست جمع کروا دیں، اسے الگ دیکھیں گے۔سپیشل سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیں وقت نہیں دے رہا، وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف کیس نہیں چلتا۔وزیراعلیٰ کے وکیل نے کہا کہ اسی کیس میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کے سامنے پیش ہوا، اسی کیس میں الیکشن کمیشن نے بلایا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو پورا وقت ملے گا، جس پر وکیل نے کہا کہ ہماری درخواستیں نہیں سنی گئیں، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے خلاف کیس نہیں چلتا، حسن ابدال میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کیس دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تو ہری پور گئے ہی نہیں، ہری پور کے ریٹرننگ افسر نے نوٹس میں لکھا آپ نے حویلیاں میں تقریر کی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزیراعظم نے الیکشن سے پہلے تقریر کی ہے۔وکیل نے کہا کہ وزیر مملکت طلال چودھری پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔قبل ازیں وکیل نے کہا کہ ہمارے پاس باقی درخواستوں کاریکارڈ نہیں، ہمارے خلاف چاروں درخواستیں یکجا کر دیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اس کے لیے ایک درخواست دیں، الیکشن کمیشن کے حکام نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف الگ الگ درخواستیں آئی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل لا کمیشن نے کہاجسٹس منیب اختر کا فیصلہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کوئی بھی فیصلہ کرسکتا ہے، جسٹس منیب اختر نے فیصلے میں توہین کمیشن کیس کی کارروائی کرنے کابھی کہا، وزیراعلیٰ کے خلاف عوام اور ڈی آر او نے شکایات کی ہیں۔الیکشن کمیشن کی سماعت میں وکیل علی بخاری نے شکوہ کیا کہ تحریک انصاف کے وکلا کو آنے نہیں دیا گیا، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختوانخوا اور مجھے بھی شناخت کے باوجود روکا گیا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ شہر میں افسر نئے آئے ہیں، اس لیے روکا ہوگا۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن میں طلبی کے خلاف سہیل آفریدی کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔سہیل آفریدی کے وکیل نے عدالت کو بتایا الیکشن کمیشن کارروائی کرے مگر فائنل آرڈر پاس نہ کرے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں، جسٹس وقار نے کہا آپ کیخلاف الیکشن کمیشن نیکارروائی تونہیں کی؟ جب آپ نے الیکشن کمیشن کی پروسیڈنگ جوائن کرلی ہے تو انتظار کریں۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نوٹس وزیر اعلیٰ کو 20 نومبر کو ایشو ہوا ،وزیر اعلیٰ نے جہاں ضمنی الیکشن ہورہا تھا وہاں نہیں بلکہ دوسرے حلقے میں جلسہ کیا ،جسٹس وقار احمدنے استفسار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو تو الیکشن کمیشن نے21 نومبر کو طلب کیا تھا، عدالت نے کہا کہ کیا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن میں تفتیش میں شرکت کی ، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جی ہم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفتیش میں شرکت کی ہے، عدالت نے کہا کہ کیا وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے؟آپ انتظار کریں ، ہم ہر کام میں مداخلت تو نہیں کرسکتے ہیں، دوران سماعت جسٹس ارشد علی نے کہا کہ آپ کے خلاف اگر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو پھر آپ عدالت آئے،آپ خود معاملات کو خراب کر رہے ہیں، ہم اگر اس طرح ہر معاملے میں مداخلت کرینگے تو یہ ادارے کس طرح کام کرینگے، درخواست گزار کیوں افسران کو دھمکاتے ہیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی حسن ابدال میں جلسہ کیا لیکن ان کو کوئی نوٹس نہیں ملا ہے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ آپ ان کے خلاف بھی درخواست دیں ہم دیکھ لینگے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شہر ناز عمر ایوب کو بھی غیر قانونی طور پر طلب کیا گیا ہے۔بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔الیکشن کمیشن نے طلال چودھری کے کیس کا عبوری حکم نامہ جاری کردیا،جس میں کہا گیا ہے کہ طلال چودھری نے بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، جوابدہ کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو منظور کیا گیا۔حکم نامے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن سے غیر حاضری کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بیان کی گئی، جوابدہ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہیں جس میں امیدوار کے نااہل ہونے کی سزا بھی شامل ہے، جوابدہ این اے 96 فیصل آباد سے کامیاب امیدوار ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جوابدہ کا نوٹیفکیشن مزید احکامات تک جاری نہ کیا جائے۔