قیدیوں کو اہلیہ اور بچوں سمیت فیملی روم میں رہنے کی اجازت--

5 سال سے زائد سزا کے قیدی سال میں 3 مرتبہ  اہلیہ اور 6 سال سے کم عمر بچوں کیساتھ رہیں گے
 جیل کے فیملی روم میں قیام کے دوران انہیں مفت کھانا بھی فراہم کیا  جائے گا:ترجمان محکمہ داخلہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے  پنجاب بھر کی تمام جیل خانہ میں قیدیوں کے بیوی بچوں کو ساتھ رہنے کے لیے فیملی روم کی اجازت دی ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قیدیوں کو بیوی بچوں کے ساتھ فیملی روم میں رہنے کی اجازت مل گئی۔ان کا کہنا ہے 5 سال سے زائد سزا کے قیدی سال میں 3 مرتبہ مسلسل 3 دن اپنی اہلیہ اور 6 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جیل کے فیملی روم میں قیام کر سکتے ہیں۔ان کے مطابق جیل کے فیملی روم میں قیام کے دوران انہیں مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ فیملی روم میں قیام کے لیے قیدی یا اہلیہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست دیتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ جیل متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے تحریری منظوری لیں گے جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل مقررہ تاریخ پر قیدی کی اہلیہ اور بچوں کو قیدی کے ساتھ فیملی روم میں قیام کی اجازت دیں گے۔