ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت بڑھا رہے ہیں، وزیر خزانہ

ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت بڑھا رہے ہیں، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پشاور چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معیشت میں استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانی مداخلت کم کرکے شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اہم نکات:
???? ٹیکس پالیسی میں اصلاحات: وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی کا اختیار واپس لے کر فنانس ڈویژن کو دے دیا گیا ہے تاکہ پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے اور ایف بی آر کی توجہ صرف ٹیکس جمع کرنے پر مرکوز ہو۔

???? شرح سود میں کمی: انہوں نے بتایا کہ شرح سود 23 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ چکی ہے، اور حکومت اس میں مزید کمی لا کر اسے سنگل ڈیجٹ میں لانے کے لیے پُرعزم ہے۔

???? برآمدات پر مبنی معیشت: وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو اور ملک کو مالی خودمختاری حاصل ہو۔

???? حکومتی اخراجات میں کمی: انہوں نے بتایا کہ غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے لیے حکومت "رائٹ سائزنگ" کر رہی ہے، جس کے تحت مختلف اداروں میں غیر ضروری اخراجات اور غیر فعال عہدوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

???? تاجروں سے مشاورت: وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے تاجروں اور کاروباری برادری سے تجاویز لی جا رہی ہیں تاکہ معیشت کو مزید مستحکم اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، اور حکومت کی اولین ترجیح نجی شعبے کو مزید سہولیات فراہم کرکے معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔