قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے جلسے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے تحت پاکستان میں جمہوریت کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے، جبکہ بلوچستان کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔
جمہوریت کا فقدان اور انتظامیہ کی ناکامی
جمہوریت کی غیر موجودگی:
عمر ایوب نے کہا کہ موجودہ نظام میں جمہوریت کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق، حکومتی پالیسیاں اور انتظامی کارکردگی عوامی خواہشات کے برعکس چل رہی ہیں۔
بلوچستان میں غیر محفوظ صورتحال:
انہوں نے بلوچستان کے متعدد اضلاع کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ علاقوں کو تو نوگو ایریاز قرار دیا جا چکا ہے جہاں سیکورٹی فورسز کی موجودگی بھی ناکافی ہے۔ ایسے علاقوں میں لوگ قافلوں کے بغیر سفر کرنے سے گریزاں ہیں، جس سے علاقے میں بدامنی مزید بڑھے گی۔
انسداد دہشت گردی عدالت اور اسلحہ کے حوالے سے تبصرے
بیان کی مذمت اور اسلحے کا معاملہ:
عمر ایوب نے انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر گفتگو کے دوران ذکر کیا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے ان کے بیان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی کی مرضی کے مطابق، ان کے اپنے وزیر یا ایم پی اے جن سے اسلحہ چھینا گیا تھا، اُنہیں وہ اسلحہ واپس دلا دیا جانا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ انتظامیہ اس معاملے پر لگام لگانے کی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن ناکام ہو رہی ہے۔
موجودہ صورتحال اور عوامی احتجاج
بلوچستان کی تباہ کن صورتحال:
ایوب نے خبردار کیا کہ بلوچستان کے کچھ اضلاع میں محض 59 فیصد علاقوں پر کنٹرول قائم ہے جبکہ باقی نوگو ایریاز میں امن و امان کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف سڑکوں پر بلکہ ایوانوں اور عدالتوں میں بھی احتجاج کی لہر دوڑ چکی ہے۔
مستقبل کی سیاسی جھلک:
انہوں نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ، راولپنڈی اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی فتح اس بات کی دلیل ہے کہ عوام کی آواز بدل رہی ہے۔ ایوب کا خیال ہے کہ وہ دن دور نہیں جب وزیراعظم عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔