پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کیخلاف درخواست، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کیخلاف درخواست، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

لاہور ہائیکورٹ میں پیش آیا، جہاں پنجاب پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے خلاف کارروائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

 چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کی اور ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے غیر قانونی قبضہ حاصل کرنے والے شہری کو فوری قبضہ واپس کرنے کا حکم دیا۔

درخواست گزار محمد علی نے قبضے کے خلاف درخواست دی تھی، جبکہ قبضہ کرنے والا شہری اور اس کے وکیل عدالت میں موجود تھے۔چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ غیر قانونی فیصلے کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے، جس پر وکیل نے اعتراف کیا کہ ڈی آر سی کمیٹی نے اختیارات سے تجاوز کیا۔عدالت نے واضح کہا کہ پہلے قبضہ واپس کیا جائے، پھر آگے بات ہوگی، اور کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی سی (ڈسٹرکٹ کمشنر) کو ہدایت دی جائے تاکہ فیصلہ سنایا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈی سی کے پاس ایسا اختیار نہیں ہے، اور فیصلہ کرنا کسی اور کا کام ہے۔
چیف جسٹس نے معاملے کو جذباتی بنانے سے منع کیا اور کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ڈی آر سی کمیٹی نے قانون کے تحت کارروائی کا اختیار لیا یا نہیں، نہ کہ یہ کہ پراپرٹی کس کی ہے۔
عدالت نے ڈی آر سی کمیٹی کے غیر قانونی اقدام کو مسترد کیا اور فوری قبضہ واپس کرنے کا حکم جاری کیا۔یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پنجاب پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت بنائی گئی کمیٹیاں اکثر اپنے اختیارات سے تجاوز کر سکتی ہیں، اور عدالت اس سلسلے میں سخت موقف اختیار کرتی ہے تاکہ قانونی پروسیجر کے بغیر قبضہ نہ کیا جا سکے۔