سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
چین دنیاکے بڑے توانائی درآمدکنندگان میں شامل ہے،جبکہ امریکاخودایک بڑاتوانائی پیداکرنے والاملک بھی بن چکاہے لیکن مستقبل کی توانائی صرف تیل اورگیس نہیں ہوگی۔ سولر پنلز،الیکٹرک گاڑیاں،بیٹریاں،گرین ہائیڈروجن اورقابلِ تجدیدتوانائی عالمی معیشت میں تیزی سے اہم ہورہے ہیں۔چین نے سولرپینلزاوربیٹریوں کی تیاری میں غیرمعمولی صنعتی برتری حاصل کی ہے۔اس کامطلب ہے کہ توانائی کی منتقلی اگرتیزہوتی ہے تودنیاکی ایک بڑی تعدادکوچینی صنعتی نظام پرانحصارکرناپڑسکتاہے۔امریکااسے ایک اسٹریٹجک خطرے کے طورپردیکھتاہے۔اسی لیے واشنگٹن مقامی صنعت کوسبسڈی،ٹیرف اورسرکاری سرمایہ کاری کے ذریعے دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کررہاہے یوں مستقبل کی توانائی پرغلبہ بھی نئی سردجنگ کامرکزی محاذبنتاجارہاہے۔امریکااورچین کی کشمکش صرف واشنگٹن اوربیجنگ کے درمیان محدودنہیں رہے گی۔افریقا،لاطینی امریکا،جنوب مشرقی ایشیا،وسطی ایشیااورمشرق وسطی آنے والی عالمی طاقت کی سیاست میں فیصلہ کن اہمیت اختیارکررہے ہیں۔
افریقامیں معدنی وسائل کے بڑے ذخائرموجود ہیں۔لیتھیم،کوبالٹ،تانبہ،مینگنیزاوردیگراہم معدنیات نئی ٹیکنالوجی کیلئے لازمی ہیں۔چین نے گزشتہ دودہائیوں میں افریقی ممالک میں سڑکوں،بندرگاہوں،ریلوے،توانائی اورکان کنی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی ہے۔امریکااب دوبارہ اس خطے میں اپنی معاشی موجودگی بڑھانے کی کوشش کررہاہے۔یہی صورتحال لاطینی امریکامیں بھی دیکھی جاسکتی ہے جہاں اہم معدنی وسائل کے ذخائرموجودہیں۔یوں جوممالک کبھی سرد جنگ میں پراکسی جنگوں کامیدان بنتے تھے،وہ اب سرمایہ کاری،سپلائی چین اورمعدنی وسائل کیلئے بڑے مقابلے کامرکزبن سکتے ہیں۔
امریکاچین رقابت کاسب سے خطرناک مقام تائیوان ہے۔چین تائیوان کواپنی سرزمین کاحصہ سمجھتاہے جبکہ امریکاتائیوان کے ساتھ مضبوط غیررسمی،اقتصادی اوردفاعی تعلقات رکھت ہے۔تائیوان کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں ہے۔دنیاکے انتہائی جدیدسیمی کنڈکٹرز کی بڑی پیداوارتائیوان میں ہوتی ہے۔یہی چپس مصنوعی ذہانت،جدیدہتھیاروں، اسمارٹ فونزاورکمپیوٹنگ کیلئے ضروری ہیں۔اگرتائیوان کے گردفوجی تصادم ہوتاہے تواس کااثرصرف ایشیاتک محدودنہیں رہے گا۔عالمی الیکٹرونکس،آٹوموبائل،دفاعی صنعت اور مالیاتی منڈیوں میں شدیدبحران پیداہوسکتاہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں معاشی سردجنگ کسی وقت گرم جنگ میں تبدیل ہونے کاسب سے بڑاخطرہ رکھتی ہے ۔گویا مستقبل میں تائیوان سب سے زیادہ خطرناک فلیش پوائنٹ بن سکتاہے۔
امریکا اورچین کودوایسے دیوہیکل حریفوں کے طورپردیکھاجاسکتاہے جواگربراہِ راست ٹکراگئے تواصل نقصان ان ممالک کوبھی ہوگا جواس کشمکش کاحصہ بننانہیں چاہتے۔عالمی تجارت دونوں ممالک سے جڑی ہوئی ہے۔چین دنیاکے بڑے صنعتی مراکزمیں سے ایک ہے جبکہ امریکاعالمی مالیاتی اورتکنیکی نظام کابنیادی ستون ہے۔اگردونوں ممالک عالمی معیشت کومکمل طورپردوحصوں میں تقسیم کرنے لگیں توکمپنیوں،حکومتوں اورعام صارفین کیلئے اخراجات بڑھیں گے۔
دنیاکودوالگ ٹیکنالوجیکل نظاموں،دوسپلائی چینز،دومالیاتی بلاکس اورممکنہ طورپردوسیاسی کیمپوں کاسامناہوسکتاہے لیکن پہلی سرد جنگ کے برعکس آج دنیامکمل طورپردوواضح بلاکس میں تقسیم ہونانہیں چاہتی۔بہت سے ممالک امریکاسے دفاعی تعلقات رکھتے ہیں لیکن چین ان کاسب سے بڑاتجارتی شراکت دارہے۔سعودی عرب امریکاکادیرینہ اتحادی ہے لیکن چین کیساتھ اس کی تجارت انتہائی اہم ہے۔پاکستان چین کیساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات رکھتاہے لیکن امریکااورمغربی دنیاسیمکمل علیحدگی بھی اس کیمفادمیں نہیں۔ خلیجی ریاستیں واشنگٹن سیدفاعی تعلقات برقراررکھتے ہوئے بیجنگ کیساتھ اقتصادی شراکت بڑھارہی ہیں۔بھارت بھی چین سیمقابلہ کرتاہے،امریکاکے قریب جارہاہے،لیکن اپنی اسٹریٹجک خودمختاری چھوڑنے پرتیارنہیں۔اسی لیے نئی سردجنگ پرانی سردجنگ سے زیادہ پیچیدہ ہوگی۔
امریکی مشکلات کے باوجودامریکاکوکمزوریاغیرمتعلقہ طاقت سمجھناایک سنگین تجزیاتی غلطی ہوگی۔امریکااب بھی دنیاکی سب سے طاقتورفوجی قوتوں میں شامل ہے۔اس کے پاس دنیابھرمیں اتحادیوں کاوسیع نیٹ ورک،جدیدیونیورسٹیاں،عالمی مالیاتی اداروں پراثر،ڈالر، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اورغیرمعمولی تحقیق واختراع کی صلاحیت موجودہے۔دوسری طرف چین کے اپنے سنگین مسائل ہیں۔آبادی کی عمرمیں اضافہ،کم ہوتی شرحِ پیدائش،قرضوں کابوجھ،پراپرٹی سیکٹرکی مشکلات،بیرونی منڈیوں پرانحصاراورامریکاکے ساتھ بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک کشیدگی بیجنگ کیلئے بڑے چیلنج ہیں۔اس لیے موجودہ مقابلے کوامریکاکے یقینی زوال اورچین کی یقینی فتح کے طورپردیکھنادرست نہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقت کاتوازن دوبارہ تشکیل پارہاہے۔
اس نئی سردجنگ کاسب سے خطرناک پہلویہ نہیں کہ امریکایاچین میں سے کون جیتے گا۔اصل خطرہ یہ ہے کہ مسلسل مقابلہ ایک ایسے مقام تک پہنچ سکتاہے جہاں دونوں فریق ہر دوسرے اقدام کودشمنی تصورکرنے لگیں۔ایک ملک اپنی دفاعی صلاحیت بڑھاتاہے تودوسرا اسے حملے کی تیاری سمجھتاہے۔دوسرانئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتاہے توپہلااسے اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصورکرتا ہے۔اسے ’’سکیورٹی ڈائلیما‘‘کہاجاتاہے۔یہی ذہنیت پہلی سردجنگ میں دنیاکومتعددبارایٹمی جنگ کے انتہائی قریب لے گئی تھی۔آج امریکااور چین دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔دونوں کے پاس جدیدمیزائل،سائبرہتھیار،خلائی صلاحیت اورمصنوعی ذہانت سے جڑے فوجی پروگرام موجودہیں۔اگر تائیوان، جنوبی بحیرہ چین یاکسی دوسرے تنازع میں غلط اندازہ لگایاگیاتومعاشی سردجنگ خطرناک فوجی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
آنے والی دہائی شایداس سوال کافیصلہ کرے گی کہ امریکااورچین اپنی رقابت کوکس حدتک محدودرکھ سکتے ہیں۔مقابلہ ختم ہونے کا امکان بہت کم ہے۔دونوں ممالک ٹیکنالوجی، تجارت، توانائی،دفاع اورعالمی سفارت کاری میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے رہیں گے لیکن مقابلے اورجنگ کے درمیان ایک بہت بڑی لکیرموجود ہے ۔ اگر واشنگٹن اوربیجنگ اس لکیرکوبرقراررکھتے ہیں تو نئی سردجنگ ایک طویل سیاسی اوراقتصادی مقابلہ رہ سکتی ہے۔اگریہ لکیرختم ہوگئی تواس کے نتائج صرف دونوں طاقتوں کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی اصل جنگ شایدکسی ایک سرحدیامیدان میں نہیں لڑی جائے گی۔یہ بندرگاہوں،مائیکروچپس ڈیٹاسینٹرز،معدنی کانوں، سولرپینلز،تجارتی راستوں،سمندری گزر گاہوں،کرنسیوں اورمصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں میں لڑی جارہی ہے۔یہی نئی سردجنگ کا اصل چہرہ ہے۔اوراس جنگ کافیصلہ شایداس بات سے نہیں ہوگاکہ کس ملک کے پاس سب سے زیادہ ٹینک یامیزائل ہیں،بلکہ اس سے ہوگاکہ کون سی طاقت عالمی وسائل،ٹیکنالوجی،سرمایہ،صنعت اوراتحادیوں کوایک پائیدارنظام میں جوڑنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔اگردونوں بڑی طاقتیں اسے صفرجمع کی جنگ سمجھتی رہیںیعنی ایک کی کامیابی لازمادوسرے کی شکست ہوتودنیاایک طویل اورخطرناک تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔لیکن اگرمقابلے کے ساتھ تعاون کے کچھ راستے کھلے رکھے گئے،خصوصاجوہری ہتھیاروں،ماحولیاتی تبدیلی،عالمی تجارت اورمصنوعی ذہانت جیسے معاملات پر،تواس نئی سردجنگ کوایک نئی عالمی جنگ بننے سے روکاجاسکتاہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ کیانئی سردجنگ شروع ہوچکی ہے؟زیادہ اہم سوال یہ ہیکہ یہ سرد جنگ کہاں تک جائے گی،دنیاکوکتنے حصوں میں تقسیم کرے گی،اورکیاامریکااورچین اپنے بڑھتے ہوئے تصادم کواس مقام تک پہنچنے سے روک سکیں گے جہاں اقتصادی اور تکنیکی مقابلہ براہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہوجائے؟
یہی آنے والے عالمی نظام کاسب سے اہم سوال ہے۔