امریکا،چین اورآنے والاطوفان

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
دنیاایک ایسے دورمیں داخل ہورہی ہے جہاں طاقت کی تعریف تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔بیسویں صدی کی سردجنگ میں دنیادوواضح حصوں میں تقسیم تھی۔ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی تھے،دوسری جانب سوویت یونین اوراس کاکمیونسٹ بلاک۔دونوں طاقتوں کے درمیان نظریاتی،عسکری اورسیاسی مقابلہ تقریبانصف صدی تک عالمی سیاست پرحاوی رہالیکن آج ابھرنے والی نئی کشمکش مختلف نوعیت رکھتی ہے۔اس بارمقابلہ امریکااورچین کے درمیان ہیاورمیدان صرف ہتھیار،فوجی اتحا یانظریات نہیں بلکہ وسائل، توانائی ، تجارت،ٹیکنالوجی،سپلائی چین،صنعت،معدنیات اورعالمی اقتصادی نظام ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ امریکی چینی رقابت کومحض ایک تجارتی جنگ سمجھناشایداس کے اصل حجم کوکم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔دونوں طاقتیں اس سوال پرمقابلہ کررہی ہیں کہ آنے والی دہائیوں میں دنیاکی معیشت کس کے بنائے ہوئے قواعدکے تحت چلے گی،نئی ٹیکنالوجی پرکس کاغلبہ ہوگا،توانائی کے وسائل اوراہم معدنیات تک رسائی کس کے پاس ہوگی اورایشیا،افریقا،مشرق وسطی اورلاطینی امریکاجیسے خطوں میں کس طاقت کاسیاسی ومعاشی اثرزیادہ ہوگا۔
1989میں دیوارِبرلن کے انہدام اورچندبرس بعدسوویت یونین کے خاتمے نیعالمی نظام کویکسربدل دیاتھا۔تقریبانصف صدی تک امریکا کے مقابل کھڑی رہنے والی سوویت سپر پاوراچانک بکھرگئی۔اس کے نتیجے میں امریکادنیاکی واحدحقیقی عالمی طاقت بن کرسامنے آیا۔1990کی دہائی سے لے کراکیسویں صدی کی پہلی دہائی تک امریکی طاقت کادائرہ غیرمعمولی حدتک وسیع ہوگیا۔واشنگٹن عالمی مالیاتی اداروں،تجارت،فوجی اتحادوں،ٹیکنالوجی،میڈیااورسفارت کاری پرغیرمعمولی اثررکھتاتھا۔نیٹومسلسل وسعت اختیارکرتا گیا، امریکی ڈالرعالمی تجارت کابنیادی ستون رہا،سلیکون ویلی نئی ٹیکنالوجی کی علامت بنی اورامریکی فوج دنیاکے مختلف حصوں میں بیک وقت کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ یوں دنیامیں پرانی سردجنگ کاتوخاتمہ ہوگیالیکن امریکی بالادستی کاعالمی خطرہ پیداہوگیا۔
بظاہرامریکانے سردجنگ جیت لی تھی لیکن وقت گزرنے کیساتھ یہ فتح اتنی حتمی ثابت نہیں ہوئی جتناابتدامیں تصورکیاجارہاتھا۔ امریکی طاقت کابڑاحصہ بیرونی جنگوں،داخلی سیاسی تقسیم،صنعتی پیداوارمیں کمی،بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری،قرضوں،کارپوریٹ مفادات اورسیاسی نظام کے اندربڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دبامیں آتاچلاگیا۔عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں نے نہ صرف امریکاپربے پناہ مالی بوجھ ڈالابلکہ اس کی عالمی ساکھ کوبھی متاثرکیا۔اسی دوران دنیاکے دوسرے حصے میں ایک ایسی طاقت ابھر رہی تھی جس نے خاموشی کے ساتھ عالمی معاشی نظام کے اندراپنی جگہ بناناشروع کردی تھی اوروہ تھاچین۔
چین کاغیرمعمولی عروج جدیدتاریخ کے حیرت انگیزمعاشی واقعات میں شمارکیاجاتاہے۔چنددہائیاں پہلے تک چین عالمی معیشت میں نسبتا محدودحیثیت رکھتاتھالیکن اصلاحات، صنعتی پیداوار،برآمدات،انفراسٹرکچراورعالمی تجارت میں مسلسل سرمایہ کاری نے اسے دنیاکے سب سے بڑے اقتصادی مراکزمیں شامل کردیا۔چین نے محض سستی مصنوعات تیارکرنے والی معیشت بننے پراکتفانہیں کیا۔وقت کے ساتھ اس نے الیکٹرونکس،ٹیلی کمیونیکیشن،سولرانرجی،الیکٹرک گاڑیوں،بیٹریوں،مصنوعی ذہانت،ریل نیٹ ورک،جہاز سازی اورجدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھائی۔
آج عالمی معیشت کی متعدد بنیادی سپلائی چینزبراہِ راست یابالواسطہ چین سے منسلک ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں امریکااورچین کے مفادات ٹکرانا شروع ہوئے۔امریکاکوخدشہ ہے کہ اگرچین اسی رفتارسے آگے بڑھتارہاتووہ صرف اقتصادی طاقت نہیں بلکہ عالمی سیاسی اورتزویراتی نظام کوبھی تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتاہے۔دوسری طرف بیجنگ امریکی اقدامات کواپنے عروج کوروکنے کی ایک منظم کوشش تصورکرتاہے۔نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسی مسابقت وجودمیں آرہی ہے جوسردجنگ کی بہت سی خصوصیات رکھتی ہے،لیکن اس کابنیادی میدان پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
امریکااورسوویت یونین کی سردجنگ بڑی حدتک سرمایہ داری اورکمیونزم کے درمیان نظریاتی تصادم تھی۔امریکااورچین کی موجودہ کشمکش میں نظریاتی اختلاف ضرورموجودہے،مگر اصل مقابلہ کہیں زیادہ مادی ہے۔دنیامستقبل میں جن صنعتوں پرانحصارکرے گی ان کیلئے چندبنیادی وسائل انتہائی اہم ہوچکے ہیں۔لیتھیم،کوبالٹ،نکل،تانبہ،نایاب زمینی معدنیات اورسیمی کنڈکٹرزمیں استعمال ہونے والے مخصوص عناصراب صرف تجارتی اشیانہیں رہے بلکہ قومی سلامتی کے اثاثے بن چکے ہیں۔الیکٹرک گاڑی ہو،جدیدمیزائل نظام ،اسمارٹ فون،سیٹلائٹ،مصنوعی ذہانت،ونڈٹربائن یاسولرپینل جدیدٹیکنالوجی کے تقریباہرشعبے کے پیچھے مخصوص معدنیات اورانتہائی پیچیدہ سپلائی چین موجودہے۔جوطاقت ان سپلائی چینزپرزیادہ کنٹرول حاصل کریگی وہ آنیوالے صنعتی دورمیں زیادہ اثرورسوخ بھی حاصل کرے گی۔چین نے کئی اہم معدنیات کی کان کنی،ریفائننگ اورپروسیسنگ میں نمایاں مقام حاصل کیاہے۔امریکااب اس انحصارکواپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہوئے متبادل سپلائی چین بنانے کی کوشش کررہاہے۔یہی وجہ ہے کہ نئی سردجنگ کی اصل جنگ کبھی کسی کان میں،کبھی کسی بندرگاہ پر،کبھی کسی چپ فیکٹری میں اورکبھی کسی سولرپینل کی سپلائی چین میں دکھائی دیتی ہے۔گویانئی سرد جنگ نظریات سے زیادہ وسائل کی جنگ ہے۔
امریکانے حالیہ برسوں میں چین سے آنے والی متعدد مصنوعات پرٹیرف اورتجارتی پابندیاں عائد کیں۔ظاہری طورپران اقدامات کامقصد امریکی صنعت اورروزگارکاتحفظ بتایا جاتا ہے،لیکن ان کے پیچھے ایک وسیع ترتزویراتی سوچ بھی موجودہے کہ چین کی صنعتی طاقت کومحدودکیاجائے۔سولرپینلزاس کشمکش کی ایک نمایاں مثال ہیں۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق چینی تجارتی نیٹ ورک نے امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے ایک انتہائی طویل متبادل تجارتی راستہ اختیارکیاجوافریقا اورجنوب مشرقی ایشیاکے مختلف حصوں سے گزرتا تھا۔ بتایا گیاکہ اس راستے کے ذریعے ماہانہ سوملین ڈالرسے زیادہ مالیت کی سولرتجارت کوجاری رکھاگیا۔یہ واقعہ ایک بہت اہم حقیقت کو ظاہرکرتاہے۔
اکیسویں صدی کی عالمی معیشت اتنی پیچیدہ ہوچکی ہے کہ صرف ٹیرف لگانے سے کسی بڑے صنعتی حریف کومکمل طورپرروکناآسان نہیں رہا۔کمپنیاں اپناسامان تیسرے ملک کے ذریعے بھیج سکتی ہیں،نئی اسمبلی لائنیں قائم کرسکتی ہیں،بندرگاہیں تبدیل کرسکتی ہیں یا تجارت کے قانونی ڈھانچے کونئے اندازسے ترتیب دے سکتی ہیں یعنی امریکاایک دروازہ بندکرتا ہے توعالمی سپلائی چین دوسراراستہ تلاش کرلیتی ہے۔اسی لیے تجارتی جنگ رفتہ رفتہ عالمی سپلائی چین کی جنگ بنتی جارہی ہے۔چین نے یہ ثابت کردیاکہ امریکی تجارتی ٹیرف بھی اب جیوپولیٹیکل ہتھیارنہیں رہے۔
اگرپہلی سردجنگ میں ایٹمی ہتھیارفیصلہ کن طاقت سمجھے جاتے تھے تونئی سردجنگ میں سیمی کنڈکٹراورمصنوعی ذہانت تقریبااسی درجے کی تزویراتی اہمیت اختیارکرتے جارہے ہیں۔ جدیدمائیکروچپس کے بغیرمصنوعی ذہانت،جدید جنگی طیارے،میزائل،سائبرسسٹمز، سپرکمپیوٹرزیاڈیٹاسینٹرزکام نہیں کرسکتے۔امریکانے چین کوجدیدترین چپ ٹیکنالوجی اورچپ بنانے والی مشینری تک رسائی محدودکرنے کی متعدد کوششیں کی ہیں۔ اس کامقصدیہ ہے کہ چین ایسے انتہائی جدید کمپیوٹنگ سسٹمز تیارنہ کرسکے جوفوجی یاتکنیکی میدان میں امریکاکو چیلنج کرسکیں لیکن اس پالیسی کادوسرااثربھی سامنے آرہاہے۔چین اب اپنی مقامی سیمی کنڈکٹرصنعت کوتیزی سے ترقی دینے کی کوشش کررہاہے۔یہی نئی سردجنگ کابنیادی تضاد ہے ۔دباؤبعض اوقات مخالف طاقت کوکمزورکرنے کی بجائے خودکفالت کی طرف دھکیل دیتاہے۔اگرچین اگلے چندبرسوں یادہائیوں میں اہم ٹیکنالوجیزمیں خودانحصاری حاصل کرلیتاہے توامریکاکی پابندیوں کی طاقت بتدریج ختم ہوسکتی ہے۔(جاری ہے)