وزیراعلیٰ پختونخوا کا مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان،وزیر داخلہ کا انتباہ

تحریک انصاف آج احتجاج، پکڑ دھکڑ گرفتاریاں 
 ،قانون شکن گرفتارہونگے:حکومت،کسی جلسے یادھرنے کی اجازت نہیں دینگے:وزیرداخلہ، بیرسٹرگوہر سے رابطہ،راستوں کی بندش سے ایمبولینسز بھی پھنس گئیں ،پروازوں کیلئے متبادل انتظام،اسلام آباد سے 200شرپسندگرفتار،ہتھیار برآمد،پولیس کا دعویٰ
لاہور ،اسلام آباد،پشاور،کوئٹہ( کرائم رپورٹر)تحریک انصاف نے آج ہر صورت اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج موخر کرنے سے انکار کردیا، وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے رابطہ کر کے احتجاج کی اجازت نہ دینے سے متعلق آگاہ کردیا، انہوں نے کہا قانون شکنوں کو گرفتار کیا جائے،ادھر راستوں کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ، ایمبولینسز بھی پھنس گئیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو ملک بھر سے پر امن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22 اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے تمام شہروں سے احتجاجی تحریک کے آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پی ٹی آئی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق احتجاجی قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کریں گے، پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی لیڈرز، کارکنان اور بانی چیئرمین کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔سیاسی کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ 26ویں آئینی ترمیم واپس لینے اور فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا جبکہ کمیٹی نے کارکنوں کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کی اپیل کی۔گزشتہ روزچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں احتجاج اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاوٓس خیبرپختونخوا میں ہونے والے اجلاس میں سابق صدرعارف علوی، شیخ وقاص اکرم اور دیگر اہم پارٹی رہنما شریک ہوئے، اجلاس میں احتجاج کی تیاریاں اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع نے بتایا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت جاری رہے گا، ڈی چوک پر دھرنا ہو گا، ہر قسم کی رکاوٹیں پار کر کے ڈی چوک پہنچا جائے گا، اس بار کسی صورت واپسی نہیں ہو گی۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جو حکم ملا ہے اس پر ہر صورت عمل کروں گا، حکومت سے مذاکرات کا آغاز بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بعد ہو گا۔ میرا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے جو وہ کہیں گے کروں گا، میں اور پی ٹی آئی کارکن ہر صورت میں ڈی چوک پر پہنچیں گے، بانی پی ٹی آئی اور دیگر قیدیوں کی رہائی اور مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے، گزشتہ احتجاج میں بھی راستے بند ہونے کے باوجود اسلام آباد پہنچے تھے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹر وے اور شاہراہیں بند کر دیں،ہمارا احتجاج پْر امن ہے حکومت ملک کو بلاک کرکے عوام کو تکلیف پہنچا رہی ہے۔ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں ان کے ساتھ موجودہ صورت حال پر گفتگو کی ہے۔محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے پابند ہیں۔ کسی جلوس، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔وفاقی وزیرداخلہ نے بیرسٹر گوہر کو بیلاروس کے صدر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے 80 رکنی وفد کی 24 سے 27 نومبر کی مصروفیات و تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بیلاروس کا اعلیٰ سطح کا وفد 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے جب کہ صدر بیلاروس 25 نومبر کو پاکستان پہنچیں گے۔انہوں نے بتایا کہ بیلاروس کا وفد 27 نومبر تک اسلام آباد میں رہے گا۔ بیرسٹر گوہر نے وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ وہ اس حوالے سے پارٹی میں مشاورت کے بعد حتمی رائے سے آگاہ کریں گے۔ترجمان وزارت داخلہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے اور نہ ہی کوئی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے ، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بیرسٹر گوہر سے صرف ایک بار رابطہ ہوا ہے، بیرسٹر گوہر کی جانب سے ان کے حتمی جواب کا انتظار ہے۔دریں اثنا وزیرداخلہ محسن نقوی نے علی الصبح اسلام آباد پولیس لائنز کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو کسی بھی شخص کو واپس نہ جانے دینے کے احکامات جاری کیے،محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت دی کہ اسلام آباد کے امن و امن کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، کسی کو امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، امن اور شہریوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے پولیس اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا دوران ڈیوٹی آپ نے تمام حفاظتی سامان پہننا اور پوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں،پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں،ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور باقاعدہ سٹرٹیجی کے تحت لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں لاشیں لے کر خیبرپختونخوا جائیں اور مسئلہ بنائیں، یہی سٹرٹیجی بانی پی ٹی آئی کی ہے، یہ ہدایات وہاں سے آتی ہیں،حکومت نے اپنا لائحہ عمل طے کرلیا ہے، اگر یہ لوگ مسلح جتھے لائیں گے تو حکومت بھی ان کا مقابلہ کرے گی، انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان سے خارجہ پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑا، بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ سے متعلق سعودی حکومت بخوبی واقف ہے، دونوں میاں بیوی کو جو گھڑیاں اور تحائف ملے ان کو بیچا گیا، سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ دونوں میاں بیوی نے مل کر فراڈ کیا تھا، بدقسمتی سے اس طرح کے لوگ ہمارے حکمران بن جاتے ہیں، امید ہے سعودی حکومت اس کو ہماری کمزوری سمجھ کر درگزر کرے گی، بشریٰ بی بی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہونے کیلئے دعاء￿  کی تھی۔وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں صرف ایک بار چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے انہیں آگاہ کیا ہے کہ عدالت عالیہ کے احکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کا احتجاج، ریلی، دھرنا وغیرہ کرنا غیر قانونی ہے،کرم ایجنسی میں 37 لاشیں گرائی گئیں لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وہاں جانے کی زحمت تک نہیں کی، اڈیالہ جیل وہ روزانہ کی بنیاد پر جانا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں پہلے سے چھپے پی ٹی آئی کے شرپسند وں کو گرفتار کرلیا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس آفیسرز کی سربراہی میں 27 ٹیموں نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں شر پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن کیا،جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے 200 شر پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار شرپسندوں میں مرد اور خواتین بھی شامل ہیں، گرفتار شر پسندوں سے ہتھیار اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار شر پسندوں سے اسلحہ کی برآمدگی پی ٹی آئی کے چوبیس نومبر احتجاج کے دوران شر انگیزی کا عندیہ دیتی ہے، گرفتار ہونے والے شرپسندوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔مزید برآں وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر پولیس، ایف سی اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگا دی گئیں،احتجاج سے نمٹنے کیلئے پولیس و ایف سی اہلکاروں اور افسران کو صبح 6 بجے ڈیوٹی پوائنٹس پر چارج سنبھالنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے،فرنٹ لائن پر رہنے والی پولیس فورس کو اینٹی رائٹ کٹس، آپریشن سامان کی ترسیل بھی کر دی گئی۔ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان گلیوں اور سڑکوں پر بھی کنٹینرز نظر آئے جو اس سے قبل عام طور پر بلاک نہیں کیے جاتے تھے۔ کئی مقامات پر کنٹینرز کے ساتھ مٹی کے ڈھیر پڑے ہیں جنھیں راستہ روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسلام آباد کے باسیوں کیلئے کئی سیکٹروں میں اپنے گھروں کی جانب جاتی سڑکوں پر کنٹینرز کی موجودگی حیران کن تھی کیونکہ وہ ایسی رکاوٹوں کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے تمام داخلی و خارجی راستے بند ہونے کی وجہ سے بھی مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ، ایمر جنسی کی صورتحال میں دوسرے شہروں کو جانے والے مسافر پریشان رہے جبکہ ہفتہ اور اتوار کو طے شدہ شادی کی تقریبات بھی بری طرح متاثر ہو گئیں۔ خیال رہے موٹرویز کو بند کر دیا گیا ہے ، بابو صابو کو بھی کنٹینرز اور بیریئرز لگا کر بند کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،راستوں کی بندش کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں دوسرے شہروں کا سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔چناب ٹول پلازہ پر میت لے جانے والی ایمبولینس کو راستہ نہ ملا، ایمبولینس ڈرائیور اور لواحقین کی منت و سماجت کے بعد پولیس نے ایمبولینس کو جانے کی اجازت دی۔ ٹیکسلامیں جی ٹی روڈ کی بندش سے آکسیجن لگے نومولود کو لے جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے بڑیہسپتالوں میں ہزاروں مریض روز علاج کیلئے آتے ہیں، مریضوں کی اسلام آباد سے دیگر صوبوں کو منتقلی کیلئے ایمبولینسز کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوگی۔موٹرویز کی بندش سے گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا۔ تاہم بیرون ملک پروازوں کیلئے متبادل انتظامات مکمل کرلئے گئے،پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی ذرائع کے مطابق دو دوز کے دوران بیرون ملک سے 21پروازیں اسلام آباد پہنچیں گی، مسافروں کو ایئر پورٹ کے اندر ہی ٹھہرایا جائے گا،دوسرے شہروں سے ٹرانزٹ فلائٹس والوں کیلئے الگ ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام ہوگا۔مزید برآں پنجاب کے بعد بلوچستان میں بھی دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے صوبہ بھر میں اگلے 15 روز تک اسلحہ کی نمائش کرنے، جلسہ ،ریلی اور 5 یا 5 سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کردی گئی۔