پولیس کانسٹیبل سجاد منشیات فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر کالی بھیڑوں کی ایک اور کہانی سامنے آ گئی
لاہور(کرائم رپورٹر)سرکاری مال خانے سے منشیات نکال کر فروخت کرنے کا انکشاف ، پولیس اہلکاروں کے منشیات کے مکروہ دھندے کا ایک اور اسکینڈل بے نقاب ، جنوبی چھاونی کے علاقے سے سکیورٹی ڈویڑن سے تعلق رکھنے والا پولیس کانسٹیبل سجاد منشیات فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی ایک اور کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم سجاد کو ایک قبرستان میں منشیات فروخت کرتے ہوئے سی سی ٹی ڈی ٹیم نے حراست میں لیا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف تھانہ جنوبی چھاونی میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق دورانِ تفتیش اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزم سجاد نے اعتراف کیا کہ وہ اس غیر قانونی کاروبار میں اکیلا ملوث نہیں بلکہ اس کے ساتھ سب انسپکٹر افتخار بھی شامل ہے۔ مزید تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مال خانے صدر میں تعینات اے ایس آئی عبدالخالق اور کانسٹیبل جہانگیر بھی اس گھناؤنے دھندے کا حصہ ہیں۔تحقیقات کے مطابق سرکاری مال خانے سے منشیات نکال کر سجاد کو فراہم کی جاتی تھیں، جو بعد ازاں انہیں مختلف مقامات پر فروخت کرتا تھا۔ تاہم ایف آئی آر میں نامزد دیگر ملزمان، اے ایس آئی عبدالخالق اور کانسٹیبل جہانگیر تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پولیس اہلکاروں کے منشیات فروشی میں ملوث ہونے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، مگر اکثر کارروائیاں نچلے درجے کے اہلکاروں تک محدود رہتی ہیں جبکہ اصل نیٹ ورک بدستور سرگرم رہتا ہے۔