اپریل میں مہنگائی میں اضافے کا امکان

اپریل میں مہنگائی میں اضافے کا امکان

وزارت خزانہ نے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں مختلف معاشی اشاریوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ترسیلات زر، برآمدات، درآمدات، محصولات اور نان ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، مالی خسارے میں کمی اور مہنگائی کی شرح میں کچھ نرمی آئی ہے، جب کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ میں مہنگائی کی رفتار 1 سے 1.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جب کہ اپریل میں یہ شرح 2 سے 3 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ فروری میں چینی، ڈیری مصنوعات اور ویجیٹیبل آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ان اشیاء کی مہنگائی 8.2 فیصد سے بڑھ کر 9.7 فیصد تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ میں مہنگائی کی شرح 5.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ شرح 28 فیصد تھی۔

جولائی سے فروری تک کی مدت میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.78 فیصد کی کمی آئی، تاہم بیرونی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیادوں پر 11.8 فیصد کا اضافہ ہوا۔ فروری میں بیرونی سرمایہ کاری میں 67.5 فیصد کی کمی آئی، لیکن ترسیلات زر میں جولائی تا فروری 32.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ، برآمدات میں رواں مالی سال 7.2 فیصد اور درآمدات میں 11.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سرپلس اور روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔