سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
ایران کاجواب شایدروایتی نہ ہوبلکہ غیرمتوقع،ہمہ جہتی اورفکری سطح پربھی ہوسکتاہے۔ایرانی جواب دہی صرف میزائلوں سے نہ ہوگی،بلکہ اس میں وہ فکری شعوربھی شامل ہوگاجو سید الشہداکے لہوسے کشیدکیاگیاہے،اورجوزمانے کے ہریزیدکے خلاف قیام کی علامت بن چکاہے۔اگرایران پرحملہ ہوتاہے توایران کاپہلاردعمل یقیناان امریکی اڈوں پرہوسکتاہے جوقطر،بحرین،سعودی عرب،کویت اورعراق میں موجودہیں۔یہ صرف عسکری تنصیبات نہیں بلکہ مغربی تسلط کی علامتیں ہیں۔ان پرحملہ گویاامریکاکی’’ناقابلِ تسخیر‘‘ہیبت کوخاک میں ملاناہوگا۔
چین اورروس کی خاموشی کی حکمت اورشطرنجی چالوں کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔روس اورچین اب تک اس سارے معاملے میںپراسرارخاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں،مگریہ خاموشی بے معنی نہیں۔ایسے عالم میں جب عالمی سیاست ایک نازک موڑپرہے،چین اور روس کی خاموشی بھی ایک گونج رکھتی ہے۔ان کی خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی معلوم ہوتی ہے۔روس،شام میں اپنے تجربے کی بنیادپرمشرقِ وسطی کی حرکیات کوبخوبی سمجھتاہے،جبکہ چین کی توانائی کی ضروریات اسے خلیجی استحکام کاناگزیرخواہاں بناتی ہیں۔چین کا بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ اورروس کے مشرقِ وسطی میں بڑھتے ہوئے مفادات شایدانہیں اس کھیل کافریق بننے پرمجبورکریں۔چین کی اقتصادی شاہراہیں اورروس کاشام ویوکرین میں کردار،ان دونوں کواس کھیل کالازمی فریق بناتاہے۔ممکن ہے کہ یہ دونوں طاقتیں وقت آنے پرایک بڑے اتحادکی بنیادرکھیں جومغربی اجارہ داری کے خلاف ایک نئی عالمی صف بندی کاسبب بنے۔
سوال یہ ہے کہ کیاامت مسلمہ واقعی بے حس ہوچکی ہے؟کیاامت مسلمہ واقعی خوابِ غفلت سے جاگے گی؟یاپھرحسبِ سابق قراردادوں، مذمتوں اوربیان بازیوں تک محدودرہے گی،یاوقت آنے پرتاریخ کوحیران کردینے والی کوئی پیش رفت کرے گی؟کیایہ ممکن ہے کہ ترکی،ملائشیا،ایران،پاکستان اوردیگرممالک کسی نئے اسلامی اتحادکاپیش خیمہ بنیں، جہاں نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی وفکری محاذ پربھی مشترکہ جدوجہدکی بنیادرکھی جائے؟پاکستان،ترکی،ملائشیاجیسے ممالک کی جانب سے ممکنہ اسلامی عسکری یاسفارتی بلاک نہ صرف ایک سیاسی حکمت بلکہ امت کی فکری وحدت کی آزمائش ہوگی۔ایک فکری اضطراب اس امت کے سوتے ہوئے ضمیرکو جھنجھوڑرہاہے،اورشایدوقت آپہنچاہے کہ تہذیبی بیداری کی کوئی شمع روشن کی جائے۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان،ترکی، ملائشیااوردیگرمسلم ممالک مشترکہ سفارتی،اقتصادی اورعسکری محاذکی تیاری کریںیہ فقط ایک سیاسی اتحاد
نہیں بلکہ تہذیبی اعادہ اورتاریخی بیداری کاعملی اظہارہوگا۔
اب دیکھناہوگا کہ مودی کی ٹرمپ سے حالیہ فون کال،ایک چال ہے یاچالاکی؟مودی نے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کوسختی سے رد کردیاہے۔یہ گویاامریکاکوکشمیرکے مسئلے سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے۔فون کال میں اس بات پراصرارکہ وہ کسی تیسرے فریق کوپاک بھارت تنازعے میں شامل نہیں ہونے دیں گے،اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت امریکا کی ثالثی کوقبول نہیں کرناچاہتا۔یہ انکارٹرمپ کی سفارتی اہمیت کوزک پہنچاتاہے۔کیاٹرمپ کی خاموشی اس امرکی مظہرہے کہ وہ خودکو اب عالمی ثالث کے کردارسے پیچھے ہٹ جائیں اوردنیابھرمیں باربارپاک بھارت جنگ میں سیزفائرکاکریڈٹ کے بیانئے کی سبکی قبول کرلیں گے؟کیاٹرمپ اس نظر اندازی کوبرداشت کریں گے؟یاپھراس کاکوئی بدلہ جنوبی ایشیائی سیاست میں تلاش کریں گے؟
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیرکی امریکامیں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں،اورٹرمپ کے ساتھ خصوصی ظہرانہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔امریکی اعلی حکام سے ملاقات اور پھرٹرمپ کے ساتھ خصوصی ظہرانہ،بظاہرتوسفارتی کارروائی لگتی ہے، مگراس کے بین السطورکچھ اورکہانی لکھی جارہی ہے۔ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے کردارکی تعریف،اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی یہ اہم ملاقات کوئی ایسا خاموش معاہدہ ہے جہاں امریکاکو اب خطے میں خصوصاًافغانستان، چین،ایران اوربھارت کے تناظرمیں پاکستان کی ضرورت ہے اوراس بات کابھی اشارہ ہے کہ امریکاپاکستان کوخطے میں متوازن حکمتِ عملی میں اہم سمجھ رہاہے۔ٹرمپ کی تعریف سے ظاہرہے کہ پاکستان اپنی عسکری طاقت کے ساتھ سفارتی قدکوبھی اجاگر کرنے کی افسائش میں ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی کردارکی ستائش،ایک نئی صبح کی نویدبھی ہوسکتی ہے،بشرطیکہ پاکستان اس موقع کوسفارتی،عسکری اوراقتصادی سطح پردانشمندی سے بروئے کارلائے۔ یادرہے کہ امریکاکی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ یہ وقت آنے پراپنے مفادات کے حصول کیلئے پاؤں پڑنے میں بھی اتنی ہی عجلت دکھاتے ہیں جتنایہ اپنے مفادات کے حصول کے بعد اپنے اسی اتحادی کوایک لمحے میں قربان کردینے میں تاخیرنہیں کرتے۔پاکستان کواس کابارہاتلخ تجربہ ہے تاہم پاکستان کواس اہم نکتے کوضرورذہن نشین رکھناہوگا۔ تاہم بھارتی مودی کی امریکاکوثالثی سے روکنے کی حالیہ کوشش،ایک جانب ٹرمپ کی تضحیک بھی کرتی ہے اوردوسری جانب علاقائی بالادستی کاعندیہ بھی،وہی پرجوابی طورپرجنرل عاصم منیرکی واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام اورٹرمپ سے ملاقات اوربعد ازاں ظہرانہ میں شرکت،پاکستان کے کردارکوعالمی سیاست میں پھرسے اجاگرکررہی ہے۔
آج کی دنیاکسی عالمی جنگ کے دہانے پرنہیں بلکہ تہذیبوں کے تصادم کے مقام پرکھڑی ہے۔مغرب کے پاس بارودہے،مگرمشرق کے پاس بصیرت۔مغرب کے پاس فوجیں ہیں ،مگرمشرق کے پاس فلسفہ،اورتاریخ نے ہمیشہ فلسفے کودوام بخشاہے،نہ کہ اسلحے کو۔ٹرمپ، نیتن یاہو،مودی جیسے کرداروقت کے نمائندے نہیں بلکہ وقت کے ردعمل ہیں۔اصل جنگ ان کے اورہمارے درمیان نہیں،بلکہ انسان کی آزادی،وقاراورخودی کے بقاکی جنگ ہے۔اگرامت مسلمہ آج بیدارہوجائے،تویہ صدی اس کی ہوسکتی ہے ورنہ یہ تاریخ کے قبرستان میں ایک اورالمناک صدمے کی شکل میں دفن کردی جائے گی۔
یہ دنیااب پرانی سیاسی حرکیات پرنہیں چل سکتی۔اب بیانیہ وہ جیتے گاجس کے پاس تاریخ کاشعور،تہذیب کاوقاراورفکرکی جولانی ہو۔ مغرب کی طاقتیں شایدہتھیاروں سے جیتنا چاہتی ہیں،مگرمشرق کے پاس ابھی بھی ایک چیزباقی ہے ،ایمان،جسے نہ دبایاجاسکتاہے،نہ خریداجاسکتاہے،اورنہ دھمکیوں سے جھکایاجاسکتاہے۔یہ دنیااب صرف باروداور اعلانات کی بنیادپرآگے نہیں بڑھے گی۔اس کامحوروہ تہذیبی،دینی اورفکری قوت ہے جوصدیوں سے کمزور نہیں ہوتی۔ٹرمپ،مودی،نیتن یاہوجیسے فریق وقتی محورہیں،مگراصل جنگ اس فکری دنیاکی بقاکی ہے۔اگرامت مسلمہ آج اپناشعورجگا لے،اپنی وحدت میں استقامت سمولے اوراپنے تہذیبی وقارکی حفاظت کرے،تویہ صدی اس کی ہوسکتی ہے ورنہ یہ صدائے تاریخ کے اک ستم زدہ آرشیوکاحصہ بن کررہ جائے گی۔
یہ محض ٹرمپ اورخامنہ ای کااختلاف نہیں،بلکہ تہذیبوں،مفادات،عقائداورنظریات کی وہ کشمکش ہے جس کادائرہ کاراقوامِ متحدہ سے لے کرعرب صحرا،غزہ فلسطین اورکشمیرکی وادیوں تک پھیلاہواہے۔تہذیبوں کی اس جنگ میں مستقبل کے فیصلہ کیلئے اگرامتِ مسلمہ اس نازک موقع پر عصرِ نو کے تقاضوں کو سمجھ کر متحد ہو جائے، تو یہ صدی شاید اس کی بیداری کا دور بن جائے۔ ورنہ تاریخ اپنی گرد میں سب کچھ دفن کر دیتی ہے، جو خود کو پہچاننے سے قاصر ہو۔