کیا اگلاہدف۔۔۔۔پاکستان؟

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
دنیاکی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جوصرف خبریں نہیں ہوتے،وہ آنے والے زمانوں کی پیش گوئیاں،تہذیبی موڑاورفکری دنگل کے تمہیدی اشارے بن جاتے ہیں۔ دنیا کی سیاسی افق پروہ لمحے باربارنمودارہوتے ہیں جب تاریخ کی سانسیں رکتی محسوس ہوتی ہیں،اورطاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی آوازیں گویاحشرکانقارہ بن جاتی ہیں۔بعض اوقات دنیاکی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب تہذیبیں اپنی مکمل معنویت کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں۔یہ الفاظ اگرچہ کسی فلسفی کے نہیں،لیکن مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے عالمی تناظرمیں ایران وامریکاکے درمیان بڑھتی کشیدگی کوسمجھنے کیلئے ایک گہری تمثیل کادرجہ ضروررکھتے ہیں۔
جی ہاں!ایساہی ایک لمحہ حالیہ ایام میں مشرقِ وسطی کے آسمان پرسایہ فگن ہے،جہاں ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی کی آگ، دھمکیوں کی چنگاریاں بن کربھڑک رہی ہے، اور آج کامشرقِ وسطیٰ بھی کچھ ایسی ہی کیفیات سے گزررہاہے،جہاں ایک طرف سامراجی طاقتیں اپنے اقتصادی مفادات،عسکری برتری اورتہذیبی غرورکے تحت نئی بساط بچھارہی ہیں،تودوسری جانب قدیم اقوام، اپنی روایات،دینی شعوراورتمدنی غیرت کوسینہ سپرکیے ہوئے دفاعِ عظمت میں مصروف ہیں۔اورآج اس شعلہ بیانی میں اسرائیل کی آتش افشانی اوربھارت کی تپش بھی شامل ہوچکی ہے۔
امریکی سیاست کے تماشے کایہ کرشمہ دیکھئے کہ ایک وہ شخص جوخودکبھی دستوروقانون کی سرحدوں کاپابند نہ رہا،خودکودنیاکا سب سے طاقتورسمجھتے ہوئے متکبرانہ اندازمیں آج ایران جیسے تہذیبی،دینی اورانقلابی مزاج کے حامل ملک سے’’غیرمشروط سرینڈر‘‘کامطالبہ کررہاہے۔ٹرمپ نے جی سیون کانفرنس سے قبل یورپی رہنماؤں کوبھی دوررکھتے ہوئے اپنی طاقت کے گھمنڈمیں پیغام دیاکہ’’ یہ معاملہ صرف ان کی دوراندیشی پرمنحصرہے۔کوئی نہیں جانتامیں کیاکرناچاہتاہوں‘‘ توگویاخوداپنی فکری بے سمتی پرمہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
اس جملے میں ایک اضطرابی لہرہے،ایک بوکھلاہٹ ہے،جس کامرکزصرف ایران نہیں،بلکہ وہ عالمی ترتیب ہے جومغرب کے ہاتھوں سے پھسلتی جارہی ہے۔ صرف ذاتی انتشارکا اظہارنہیں،بلکہ ایک عالمی حکمتِ عملی کی بوکھلاہٹ اورمغربی یگانگت شکن کاکھلا ثبوت ہے۔ٹرمپ کاایران سے یہ مطالبہ کہ وہ بغیرکسی شرط کے ہتھیارڈال دے،ایک ایسی سیاسی ضد کامظہرہے جوبیسویں صدی کی سامراجی ذہنیت کاعکس لیے ہوئے ہے۔ٹرمپ کا حالیہ بیانیہ بظاہرایک لاپروائی،مگردرحقیقت ایک گمشدہ مغربی قیادت کی علامت ہے،جواپنے ہی تراشے ہوئے اصولوں اورنظریات کی صلیب پرلٹکی ہوئی ہے۔اپنے اندرایک گہری فکری انتشار،سیاسی غیرسمتی اور نفسیاتی الجھن کامظہرہے۔ایک سپرپاورکاسربراہ اگراپنی سمت سے ناآشناہوتویہ محض ایک فردکی ذہنی بے چینی نہیں بلکہ پوری تہذیب کی فکری زوال کاآئینہ دارہوتاہے۔
ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہای نے اس مطالبے کومستردکرتے ہوئے کہاکہ’’ایران کبھی سرینڈرنہیں کرے گا،امریکی مداخلت تاریخی،تہذیبی اورمعاشرتی لحاظ سے ناقابلِ تلافی نقصان کاسبب بنے گی‘‘۔ان کایہ اعتمادکسی ذاتی حماقت نہیں،بلکہ40سالہ مزاحمتی روایت،انقلاب کی آگ اورامت کے شعورکی روشنی کانتیجہ ہے۔خامنہ ای کابیان ایک نظریاتی بنیادرکھتاہے۔ان کے نزدیک یہ صرف سیاسی مزاحمت نہیں بلکہ تاریخ،ایمان اورتہذیب کی بقاکی جنگ ہے۔
ٹرمپ کاغیرسفارتی لہجہ اوردہمکی کے برعکس خامنہ ای کاجواب تاریخ کے لہجے میں ہے۔خامنہ ای کی زبان سے نکلے الفاظ صرف سیاسی مؤقف یافقط سفارتی ردعمل ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی مزاحمت کابیانیہ اورصدیوں پرمحیط ایرانی عزیمت،دینی تشخص اور تہذیبی بیداری کی گواہی ہے۔یہ اعلانِ مزاحمت ایک ایسی قوم کی طرف سے ہے جس نے دارااورکوروش کی سلطنتوں کوجنم دیا،جو قادسیہ کی گردسے ابھری،جس نے مغلوں کوتہذیب کاشعورسکھایا،اورجس کے سینے میں ابھی بھی امام حسین ؓکی کربلائی روح دھڑک رہی ہے۔یہ آوازکسی ایوانِ اقتدارسے نہیں بلکہ صدیوں پرمحیط عزیمت کی تاریخ سے آتی ہے۔ایران،جس نے نہ یونانیوں کے سامنے جھکنے کاحوصلہ کیا،نہ چنگیزی لشکروں کے سامنے،وہ آج بھی فکری استقامت کی علامت ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن کی ٹرمپ پرتنقید،ایک اورنوحہ ہے اس عالمی ادارے کی بے بسی کا،جواب محض ایک تھکے ہوئے نقارے کی مانندہے،جس پرسب چوٹ کرتے ہیں مگرکوئی نغمہ برآمدنہیں ہوتا۔ایرانی سفارتی مشن کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں دیاجانے والابیان،ٹرمپ کے غرورپرکاری ضرب تھا۔جب کہاگیاکہ’’ہم وائٹ ہاؤس کے قریب بھٹکنابھی نہیں چاہتے‘‘تواس میں صرف سیاسی تردید نہیں بلکہ ایک تہذیبی استغناکی خوشبوہے۔یہ جملہ گویامغرب کی بے لطف سیاست کے منہ پرایک طنزیہ مسکراہٹ ہے۔ ایرانی سفارتی مشن نے اقوامِ متحدہ سے ٹرمپ کویہ واضح پیغام محض جملہ نہیں،بلکہ ایک تہذیبی خودداری اوربرخاستی کابیانیہ ہے جومغربی دباؤکاتسلسل توڑکرسامنے آیا۔ایران کی یہ روش،اسلامی تعلیمات کی اس بنیادپرہے جوعزت وذلت کامعیارایمان،استقامت اور عدل کومانتی ہے،نہ کہ دھونس،پابندیوں یاڈالرکی چمک کو۔
ایران کاحالیہ فیصلہ کہ جنگی اختیارات اورفیصلے مکمل طورپرپاسدارانِ انقلاب کے سپردہوں گے۔بادی النظرمیں یہ محض ایک فوجی حکمتِ عملی ہے،مگراس کے پس پردہ ایک عمیق پیغام ہے:’’جب امت کے نظریاتی ستونوں پرحملہ ہوتوتلوارصرف دفاع کاہتھیارنہیں رہتی،وہ خودایک زبان بن جاتی ہے‘‘۔ایران نے حالات کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کوجنگی فیصلوں کامکمل اختیاردے دیاہے۔یہ اقدام محض عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے کہ’’اب گفتگوکاوقت نہیں،میدان کی زبان بولی جائے گی‘‘۔
پاسداران کافلسفہ صرف عسکری تربیت نہیں بلکہ ایک دینی تربیت ہے۔ان کاہتھیارصرف لوہے کانہیں بلکہ ایمان کاہوتاہے اورجب ایمان میدان میں آتاہے توجنگ صرف بارود سے نہیں،جذبے سے جیتی جاتی ہے۔گویاایران کی عسکری حکمتِ عملی میں دینی اسنادہم پلہ نظرآرہی ہے۔ایران کاپاسدارانِ انقلاب کوجنگی فیصلوں کااختیارسونپناتہذیبی اورفکری طورپرمعنی خیزہے۔اسے محض عسکری فیصلہ نہیں بلکہ ایک تاریخ کااعلامیہ سمجھیں کہ جب ایمان اورعزت پرسوال اٹھتاہے،وہاں دفاع کے ہتھیاروں کے ساتھ نظریاتی اصول بھی لڑتے ہیں۔ایران نے جنگ کے اختیارات پاسدارانِ انقلاب کوسونپ کریہ پیغام دیاہے کہ اگرحملہ ہواتوجواب فقط عسکری نہ ہوگا بلکہ تہذیبی سطح پربھی اس کااثرہوگا۔
اسرائیل کی طرف سے ایران پرحملے اورایران کی جانب سے بھرپورجواب،وہ قندیل ہیں جوکسی بڑی جنگ کی آمدکاپیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔یہاں صہیونی ذہنیت اورتہذیبی غرورصرف ایک ملک کے خلاف نہیں،بلکہ پوری مسلم دنیاکے وجود،اس کی روح اوراس کے خوابوں پرحملہ آورہے۔یہ محض حملے اورجوابی حملے نہیں،بلکہ ایک ایساسیاسی طائفان ہے جس کے بطن سے ایک عالمی تصادم جنم لے سکتاہے۔ایران کی جوابی کارروائی کے بعدخطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی سیاست ایک نئے دورمیں داخل ہوگئی ہے۔
نیتن یاہوکی حالیہ دھمکی کہ ایران کے بعد پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کوبھی ختم کیاجائے گا،فقط ایک عسکری اعلان نہیں بلکہ ایک تہذیبی چیلنج ہے۔نتین یاہوکی یہ زہرآلوددھمکی یازبان سے پھسلے الفاظ کہ وہ’’ایران کے بعدپاکستان کی ایٹمی صلاحیت ختم کرے گا‘‘۔یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں،بلکہ ایک برہنہ تہذیبی دھمکی ہے۔یہ محض پاکستان کے خلاف ایک لسانی اشتعال نہیں،بلکہ مسلم امہ کے اجتماعی وقارکوچیلنج اوراسلامی دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔نیتن یاہوجیسے درندے کایہ اشتعال انگیزبیان یقیناصرف خطہ میں ہی نہیں بلکہ دنیاکوایک انتہائی خوفناک جنگ کی دہلیزپرلاکھڑاکیاہے جس کیلئے ابھی سے سیاسی اورسفارتی اندازمیں باورکرانے کی ضرورت ہے کہ کیاواقعی نیتن یاہواورمودی جیسے فاشسٹ افرادکودنیاکوتاریک کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
یہ سوال آج ہردانشور،ہرتجزیہ نگاراورہرعام انسان کی زبان پرہے:کیاواقعی امریکاایران پرحملہ کرے گااورایران کاجواب کیاہوگا؟تاہم اگرایساہواتویہ حملہ کسی ملک پرنہیں بلکہ ایک تہذیب،ایک فکراورایک نظریے پرحملہ ہوگا۔اگرامریکانے ایران پربراہِ راست حملے کی جسارت کی تویہ ایک چنگاری نہیں بلکہ آتش فشاں ثابت ہوگا۔ایران کاردعمل صرف امریکی اڈوں تک محدودنہ ہوگا،بلکہ پورے خطے میں امریکی مفادات کولپیٹ میں لے سکتاہے۔عراق،شام،لبنان،اورخلیجی ریاستیںسب اس دائرہ آتش میں آئیں گی۔(جاری ہے)