آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے سمندری علاقوں میں جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ چھ ماہ سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔
عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران خلیج اور اس کے ملحقہ سمندری علاقوں میں 68 تجارتی جہازوں سے متعلق واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان واقعات میں سے تقریباً نصف آئل ٹینکرز پر ہوئے، جبکہ 20 فیصد کنٹینر جہاز اور 15 فیصد بلک کیریئرز شامل ہیں۔اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 بحری کارکن یا بندرگاہ کے ملازمین ہلاک، 35 زخمی اور ایک لاپتا ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، چھ ماہ میں 68 واقعات کا مطلب ہے کہ ہر 2.6 دن بعد ایک حملہ ہوا، جو اس علاقے میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات میں اضافہ کا سبب ہے۔برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق، ان واقعات میں سے 47 کو حملہ قرار دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملے صرف حادثات یا سمندری خطرات نہیں بلکہ براہ راست حملوں کا نتیجہ ہیں۔
جہازوں کے جھنڈے کے لحاظ سے، سب سے زیادہ متاثر ہونے والے جہاز لائبیریا کے پرچم بردار تھے، جن کے 13 جہاز ان حملوں کا نشانہ بنے۔ اس کے علاوہ پاناما اور مارشل آئی لینڈز کے جہازوں کے بھی ہر ایک کے 10 متاثرہ جہاز ہیں۔آبنائے ہرمز میں جاری یہ واقعات عالمی شپنگ کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات کا سبب بن رہے ہیں، کیونکہ انشورنس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، متبادل راستوں پر غور کیا جا رہا ہے، اور تیل و گیس کی عالمی ترسیل پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے۔یہ صورتحال عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور سمندری سفر کی سلامتی کے لیے بہت اہم اور تشویشناک ہو چکی ہے۔