3 برسوں میں ستر لاکھ قاعدوں کی کمی، آئندہ سال صرف دس لاکھ شائع ہوں گے، فوری اقدامات کا مطالبہ
لاہور(کرائم رپورٹر) سرکاری اسکولوں میں ناظرہ قرآن کو لازمی مضمون قرار دیے جانے کے باوجود اس کے لیے درکار سپاروں (قاعدوں) کی اشاعت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس صورتحال پر سابق ممبر قرآن بورڈ محمد ناظم الدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کو خط ارسال کیا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں سرکاری اسکولوں کو مجموعی طور پر 70 لاکھ قاعدوں کی کمی کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں 80 لاکھ قاعدے شائع کیے گئے تھے، مگر سال 2024-25 میں صرف 37 لاکھ اور 2025-26 کے لیے 26 لاکھ قاعدے شائع ہوئے۔حیران کن طور پر تعلیمی سال 2026-27 کے لیے صرف 10 لاکھ قاعدے شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو طلبہ کی بڑی تعداد کے لحاظ سے ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ناظم الدین کا کہنا ہے کہ سالانہ کم از کم 80 لاکھ قاعدوں کی اشاعت ضروری ہے تاکہ تمام طلبہ کو یکساں مواقع میسر آئیں۔انہوں نے یہ بھی مئوقف اختیار کیا کہ بارہویں جماعت کے ترجمہ القرآن کی کتابیں غیر معیاری کاغذ پر شائع کی جا رہی ہیں، جو ایک اہم دینی مضمون کے ساتھ ناانصافی ہے۔دوسری جانب پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) حکام کا کہنا ہے کہ وہ صرف موصول شدہ آرڈرز کے مطابق کتب اور قاعدے شائع کرتے ہیں۔ سابق ممبر قرآن بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ناظرہ قرآن کے قاعدوں کی اشاعت کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ دینی تعلیم ہر طالب علم تک مساوی طور پر پہنچ سکے۔