ویب ڈیسک: برطانیہ کی وزارت داخلہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں سب سے زیادہ سیاسی پناہ کی درخواستیں پاکستانی شہریوں نے جمع کرائیں، جن کی تعداد 11 ہزار 48 رہی۔
یہ تعداد مجموعی 1 لاکھ 9 ہزار 343 درخواستوں کا اہم حصہ ہے۔یہ صورتِ حال ایک نمایاں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے، کیونکہ 2023-24 میں پاکستانی شہری تیسرے نمبر پر تھے، جب کہ رواں برس وہ پہلی پوزیشن پر آ گئے ہیں۔اعداد و شمار میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خطرناک سمندری سفر کرکے برطانیہ پہنچنے والے مہاجرین میں سے 33 فیصد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، جو برطانیہ کی امیگریشن پالیسی پر اثر ڈالنے والا اہم عنصر ہے۔افغان شہریوں نے 8 ہزار 69 درخواستوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں سیاسی عدم استحکام، جنگی حالات اور معاشی بدحالی مہاجرت کے اہم اسباب بنے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، پاکستانی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہیں، جن میں ملکی سیاسی بے چینی، معاشی بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری اور بہتر مستقبل کی تلاش شامل ہیں۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ہر درخواست کو انفرادی بنیاد پر پرکھا جائے گا اور فیصلہ کرتے وقت شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ پیش رفت نہ صرف برطانیہ کی پناہ گزین پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ یہ پاکستان میں موجود سماجی و اقتصادی چیلنجز کی بھی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔