یاسر رؤف جوئیہ
لفظ دہشتگردی سنتے ہی ہمارے ذہن میں بم دھماکے اور انسانی جانوں کا ضیاع آ جاتا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی تاریخ تقریباً چار دہائیوں سے زائد پرانی ہے، تاہم موجودہ نسل نے اس میں شدت 2008 سے 2016 تک جھیلی ہوئی ہے۔ افغانستان اور عراق جنگ کے اثرات کے نتیجے میں ہم نے تقریباً 80 ہزار جانیں گنوائی ہوئی ہیں اور وقتاً فوقتاً گنوا رہے ہیں۔
کیا بم دھماکے اور قتل و غارت ہی دہشتگردی ہے؟ اگر دہشت گردی کی تعریف پڑھیں تو اس کے مطابق عوام الناس یا شہریوں میں کسی عمل کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانا اور نقص امن کا سبب بننا دہشتگردی ہے۔ اس تعریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردی صرف بم دھماکوں یا قتل و غارت تک محدود نہیں، بلکہ دہشت کا سبب بننے والے عناصر بھی دہشتگردی کے زمرے میں آتے ہیں۔
ہم اس وقت ایک ایسے ہی عنصر کا شکار ہیں، تاہم اسے بہتر طور پر سمجھنے سے فی الحال قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دہشتگردی آزادی اظہار رائے یا Freedom of expression کے نام پر پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ ایسا فعل ہے جس میں محض ایک خبر، رائے یا پوسٹ معاشرے میں افراتفری اور تفریط کا باعث بن جاتی ہے، کسی کی زبان سے نکلا ہوا جملہ، ذاتی رائے یا مشاہدہ معاشرے میں نفرت کی آگ پل بھر میں پھیلا دیتا ہے۔
دہشتگردی کی یہ قسم سماجی دہشتگردی یا Social Terrorism کہلاتی ہے۔ یہ ایسی قسم ہے جو اکثر اذہان پر دیرپا اور انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ اس دہشتگردی کا شکار زیادہ تر کم پڑھا لکھا یا ان پڑھ طبقہ بنتا ہے، تاہم اس کی شدت بعض اوقات پڑھے لکھوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ یہ دہشتگردی بعد میں کئی قسم کی دہشتگردی کا سبب بھی بنتی ہے اور ان کیلئے ایندھن کا کام سر انجام دیتی ہے۔
جب کوئی شخص یا تنظیم اپنے نظریات کے پھیلاؤ کیلئے جھوٹ، جذباتی اور اشتعال انگیز بیانات کا سہارا لے، عوام الناس میں جھوٹے پراپیگنڈے کو اس قدر شدت سے پھیلائے کہ وہ سچ لگنا شروع ہو جائے، اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کہیں کے واقعے کو کہیں اور جوڑ دے تو وہ سماجی دہشتگردی کا مرتکب ہوتا ہے۔
یہ سماجی دہشتگردی معاشرے میں بے چینی، نقص امن، اداروں سے نفرت اور معاشرتی اقدار کی گراوٹ کا سبب بنتی ہے۔ شہریوں میں نفرت انگیز جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اپنے نظریات سے اختلاف رکھنے والوں کو دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ مجموعی طور پر تنزلی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے۔ اس سے ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل گھمبیر ہو جاتے ہیں۔
پاکستان بھی اس وقت ایسی ہی سماجی دہشتگردی کا شکار ہے۔ معاشرے میں شدت پسندی عود کر آئی ہے۔ نظریات سے اختلاف کو ذاتی اختلاف گردانا جاتا ہے اور بعض اوقات تو قابلِ گردن زنی قرار دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا و دیگر میڈیا ذرائع کے جھوٹے پراپیگنڈے، مسلسل جھوٹ اور یک رخی موقف کی وجہ سے باہمی اختلافات کی خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دوسروں کے نظریات کو باطل اور اپنے نظریات کو حق ثابت کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے۔
دشمن ایسی صورتحال کو ہمیشہ سے اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتا آیا ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر دشمن اس خلیج کو مزید گہرا کرنے کیلئے جھوٹ اور شدت پسندی کا سہارا لیتا ہے اور معصوم اذہان کے اندر نفرت بھرتا ہے۔ جذبات سے مغلوب اذہان ایسی نفرت کو آسانی سے اور بلال حیل و حجت قبول کر لیتے ہیں۔ انٹیلیجنس کی زبان میں اسے "سب ورڑن" یعنی اذہان کا بدلاؤ قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا اس وقت سب سے بڑا ذریعہ مواصلات بن چکا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے اس ذریعہ مواصلات پر جھوٹ اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے۔ ریچ اور ویوز کی خاطر جھوٹ کی دکانیں خوشنما لبادوں میں اپنا مال سچ بنا کر بیچ رہی ہیں اور سادہ لوح افراد اس کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ نتیجتاً جھوٹ کی منڈی دن بدن پھیلتی ہی جا رہی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں چل چلاؤ کا دور ہے۔ یہاں تحقیق تقریباً مفقود ہے۔ جو چند لوگ تحقیق کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کی آواز مختلف سنگین الزامات سے دبا دی جاتی ہے یا پھر نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے۔ جو سچ کا پرچار کرے یا آئینہ دکھائے اسے حیلے بہانوں سے چپ کروا دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اسی چل چلاؤ کی وجہ سے پرانے واقعات کو نیا رنگ دے کر ٹائم لائن پر چپکا دیا جاتا ہے جس میں اکثر اوقات اداروں کے خلاف نفرت سے بھرپور جملے ہوتے ہیں۔ راقم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ 2018 کے واقعے کو 2025 میں دوبارہ سے وائرل کیا گیا اور شہریوں میں پولیس کے خلاف نفرت پھیلائی گئی، حالانکہ اس واقعے پر پنجاب پولیس نے اسی وقت محکمانہ کارروائی عمل میں لاتے ہوئے متعلقہ پولیس افسر کو معطل کر دیا تھا۔
خیر! اس طرح کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں جہاں شہریوں میں نفرت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ زیادہ دور نہ جائیے، 2022 میں سوشل میڈیا پر پوسٹ لگی کہ بچے اغواء کرنے والا گروہ سرگرم ہے۔ شہریوں نے بنا تصدیق کئے دھڑا دھڑ شئیر کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض جگہوں پر ماں باپ نے اپنے بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی محض شک کی بناء پر مار کھائی۔
سماجی دہشتگردی سیاسی اور مسلکی جماعتوں کا سب سے بڑا اور موثر ہتھیار ہے۔ ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اپنے نظریات کی ترویج کیلئے آدھا سچ اور یک رخی تصویر بیچتے ہیں۔ نفرت اور عداوت کے باعث یہ مال ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اور عوام الناس میں بے چینی اور عدم اعتمادی کا باعث بنتا ہے جس کا دیرپا اثر اور نقصان ہوتا ہے۔
سماجی دہشتگردی کا نقصان معاشرتی بے چینی، جذباتی عدم توازن اور ساکھ کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ سب عوامل مجموعی طور پر معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں اور طویل مدتی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ "میں نہ مانوں" کی رٹ اور "میرا کہا درست ہے" ایسا معاشرہ بناتے ہیں جہاں عدم برداشت اور رواداری سے دوری کا چلن عام ہوتا ہے۔
اول، بطور شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم قرآنی احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے کسی بھی خبر پر یقین کرنے یا اسے پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں۔ اگر تصدیق ممکن نہ ہو تو خاموشی اختیار کریں اور مناسب وقت کا انتظار کریں تاکہ ہمارے کسی فعل سے دوسروں کا نقصان نہ ہو۔
دوئم، بطور شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم نظریات کی مخالفت کے کلچر کو مسترد کرتے ہوئے باہمی رواداری و ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ نظریات کے اختلافات کو ذاتی و سماجی اختلافات بنانے کی بجائے برداشت کا سبق پڑھیں اور مخالف فریق کے خلاف نفرت انگیز جذبات کی بجائے محبت سے اسے اپنا گرویدہ کریں۔
سوئم، بطور شہری ہمارا فرض ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتیں، دشمن کے کسی پراپیگنڈا کا شکار ہونے کی بجائے حقائق کی تصدیق کریں اور پھر حقائق کی ترویج کریں۔ اس سے معاشرے میں امن ہو گا اور شہریوں تک درست معلومات کی رسائی ہو گی۔
مزید برآں ریاست کو اس حوالے سے سخت قوانین اپنانے اور ان کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ گوکہ PECA 2016 ترمیم شدہ موجود ہے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے موثر کارروائیاں سامنے نہیں آئیں۔ اس کی بنیادی وجہ شہریوں کی قوانین سے آگاہی نہ ہونا اور پیکا کے نفاذ کیلئے موجود اداروں تک رسائی مشکل ہونا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد اس حوالے سے پولیس تھانوں کا رخ کرتی ہے تاہم تھانے اس حوالے سے مکمل کارروائی کے مجاز نہیں، دوسری جانب کارروائی کا نظام بھی پیچیدہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین کا نفاذ موثر طور پر یقینی بنانے کیلئے پیکا کو گراس روٹ لیول پر نافذ کیا جائے۔ اس حوالے سے کارروائی کیلئے عوامی آگاہی یقینی بنائی جائے اور ان اداروں تک عوام کی رسائی آسانی سے ممکن بنائی جائے تو اس سماجی دہشتگردی پر بہت زیادہ حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔