روس کا یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ، شدید سردی میں لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

روس کا یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملہ، شدید سردی میں لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

کیف: یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روس کے حملوں کے بعد تقریباً 6,000 عمارتوں میں صبح کے وقت ہیٹنگ بند ہو گئی، جبکہ درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ (14 فارن ہائیٹ) کے قریب تھا۔

 شہر کے مرکزی ہیٹ ڈسٹریبیوشن سسٹم میں پہلے کے حملوں کے باعث متعدد رہائشی اپارٹمنٹس میں شدید سردی رہی تھی۔کیف کے میئر ویتالی کلسچکو کے مطابق دارالحکومت میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جن میں سے تین کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جبکہ یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں 19 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے اپنی رات بھر کی حملوں میں 375 ڈرون اور 21 میزائل داغے، جن میں دو سرکون بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔ کیف کے آسمان میں نارنجی روشنی کی جھلکیاں دیکھی گئیں، جب دفاعی نظام نے شہر پر گرتے میزائل اور ڈرونز کو نشانہ بنایا۔

یوکرین کے ڈپٹی وزیر اعظم اولیکسئی کولیبا کے مطابق دارالحکومت کے 800,000 سے زائد افراد اور شمالی علاقے چرنیہیو کے مزید 400,000 افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ایمرجنسی اہلکار متاثرہ رہائشیوں کو خدمات بحال کرنے میں مصروف ہیں۔خارکیف کے میئر ایہور تیرکوف نے بتایا کہ روسی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر فاصلے پر واقع اس شہر پر 25 ڈرون حملے کیے گئے، جنہوں نے مہاجرین کے ہاسٹل اور دو طبی مراکز بشمول مائٹرنی ہسپتال کو نشانہ بنایا۔