بااثر مگر بے انصاف

کنیز بتول کھوکھر
 دیہی معاشرے میں دو طبقے واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں ایک زمینداربااثرغیرت مند عزت دار کہلاتے ہیں، دوسرا،کمی، مزدور، چھوٹے کسان یا کمزور طبقہ
کمزور کی ذرا سی لغزش فوراً گاؤں کی چوپال، مسجد بازار تک پہنچ جاتی ہے اس کی عزت پر سوال اٹھتے ہیں بدنامی نسلوں تک قائم رہتی ہے اور انہیں اتنا زیادہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ مگر طاقتورکی سنگین ناانصافیاں، جوعزت غیرت کے پردے میں چھپی ہوتی ہیں کم تر نہیں،انہیں نہ گنا نہ تولاجاتا ہے نہ ان پر بات کرنا مناسب سمجھا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا جرم کا تعلق طاقت سے ہے یا حق سے؟
جو اپنی بہنوں بیٹیوں کی زمینیں چھین کران کا حق دینے سے انکار کرتے ہیں زمین کے لالچ میں رشتوں اور زندگیوں کو روند دیتے ہیں، کیا واقعی وہ عزت دار ہیں؟ کیا یہ غیرت ہے یا لالچ کی درندگی؟ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا فیصلہ انسانوں کے اختیار میں نہیں چھوڑا

 (النساء￿ : 11)۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ وراثت انصاف اور حق کی بنیاد پر تقسیم ہونی چاہیے، اور جو اس تقسیم کونہ مانے اس کے بارے ارشادِ باری ہے
(النساء : 10)۔ وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں، اور ان کا انجام واضح ہے:
یہ وعدہ کسی مولوی، جاگیردار یا گاؤں کے معزز کا نہیں،
 بلکہ ربّ اللعالمین کا فیصلہ ہے
انہی غصب شدہ زمینوں سے حج، عمرہ، صدقے، خیرات، مسجدیں، میلاد اور برسیاں کی جاتی ہیں۔ مگر رسول اللہ  نے فرمایا
 (مسلم) یعنی جب کمائی حرام ہو تو عبادت کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ جب لقمہ آگ ہو تو سجدہ نور کیسے بنے؟ یہ وہ سچائی ہے جو ہر دل دہلانے والی ہے مگراکثر طاقتوراس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں اگر زمینداروں کے شوق دیکھے جائیں تو تصویر اور زیادہ عریان ہو جاتی ہے۔ مہنگی گاڑیاں وسیع بیٹھکیں دوستوں کی محفلیں شکاردعوتیں نمود ونمائش اور مردوں کے شوق پر بہنے والا بے حساب پیسہ سب کچھ انہی زمینوں کی پیداوارہے جن پربہنوں بیٹیوں کا حق مارا گیا انہی گھروں حویلیوں میں بہنیں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہوتی ہیں صبح سے شام تک گھر کے کام مہمانوں کے لیے کھانے، خدمت، جھاڑو، برتن وہ بھی نوکروں سے بدترحیثیت میں نہ اختیار،نہ احترام،نہ حصہ، نہ آواز سوال یہ ہے
 کیا یہی عزت ہے کہ مرد اپنے شوق پورے کرے اورعورت اپنے ہی باپ کی زمین پر اجنبی بن کر جیے؟ یہ کیسی غیرت ہے جو بہن بیٹی کو وراثت دینے پرجاگتی نہیں مگر اس کے سوال کرنے پر بیدار ہو جاتی ہے؟ یہ کیسی عزت ہے جو مرد کو محفل میں سر اٹھا کر بٹھا دے مگر عورت کو 
اپنے ہی گھر میں نظریں جھکا کر جینے پر مجبور کر دے؟ قرآن نے عورت کو حق دیا تھا انسان نے روایت کے نام پر چھین لیا۔
 قرآن نے وراثت کو عدل کا پیمانہ بنایا انسان نے اسے طاقت کی جاگیر بنا لیا یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں یہ ضمیر کے قتل کا مسئلہ ہے۔
جب کوئی سرمایہ دارمرتا ہے تو چند ہی لمحوں میں مسلکی پہنچ جاتے ہیں پندرہ، بیس ہزار لے کر جنت کے پروانے بانٹ دیتے ہیں لیکن کبھی کسی نے اس کی وصیحت نہیں پوچھی جبکہ قرآن پاک میں سب سے پہلے وصیحت پر عمل کے لئے کہا گیا ہے  
جو جانتے بوجھتے ظلم کرنے والے کی تعریف کرتے ہیں یا چند پیسوں کے عوض جنت کا وعدہ دیتے ہیں وہ خود بھی اس ظلم میں شریک ہیں اور انجام میں شریک ہوں گے کہتے ہیں
سوچنے کی بات ہے بیٹیوں کے ٹوٹے خواب کس کھاتے میں جائیں گے ؟ زمینوں کا حساب کون دے گا؟ بہنوں کے آنسو کون گنے گا؟

وہ لوگ جو بہن، بیٹی اور کمزور کی زمین کھاتے ہیں، نہ دنیا میں سکون پا تے ہیں نہ آخرت میں نجات ،زمین اورچھینا گیا حق، ہرآنسو جو بہن یا بیٹی نے چھپ کر بہائے، سب اللہ کے حساب میں ہیں یاد رکھیے، جو بہن دن بھر خدمت کرے اور رات کو خاموش آنسو بہائے، اس کی آہ اللہ کے ہاں ضائع نہیں جاتی جو بیٹی حق مانگتے ہوئے چپ کرا دی جائے اس کی خاموشی قیامت کے دن گواہی بن جائے گی اور جو مرد اپنی بہن کی محرومی پر عیش کرے شاید دنیا میں بااثر ہو، مگرآخرت میں انتہائی مفلس ہو گا کیونکہ دوسروں کا حق کھانے والے نہ دنیا میں سکون پاتے ہیں نہ آخرت میں نجات۔
بات یہاں صرف بہن بیٹی کی زمین پر ختم نہیں ہوتی وہ خواتین جن کے بھائی نہیں ہوتے باپ کی زمین تو ان کو ملتی ہے مگر وہی زمیں ان کی زنجیر بن جاتی ہے وہاں انسان کی اہمیت رضامندی پسند نہ پسند اہم نہیں ہوتی بلکہ وہ زمین کس کے حصے میں ائے گی لڑکی کو کڑواگھونٹ سمجھ کرپی لیا جاتاہے اس کا زمینوں پر تو اختیار نہیں ہوتا البتہ پوری زندگی طعنوں کی سوغآت اسے ملتی رہتی ہے۔
عزت زمین سے نہیں انصاف سے ملتی ہے غیرت طاقت سے نہیں حق ادا کرنے سے پہچانی جاتی قلوں جمعراتوں اورچہلم کی دیگوں پرامید نہ رکھیں وہ وقتی خیرات ہوتی ہیاپنا سامان خود ساتھ لے کرجائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ حقوق اللہ معاف کردیتا ہے مگر بندوں کے حقوق بندے ہی معاف کرتے ہیں یاپھراگے اپنی ہی نیکیاں دے کر لین دینا کرنا پڑے گا۔
 انسانوں کے حقوق کوئی ختم نہیں کروا سکتا یہ حقیقت ہرطاقتورکے سامنے آئے گی اپنے پیاروں کواس امتحان میں مٹ ڈالیں اگر کسی سے محبت ہے تواس کی آخرت سنوانے کامشورہ ضروردیں۔
عزت وہ ہے جو قیامت کے دن سراٹھانے کے قابل بنائیا بھی وقت ہے زمینیں واپس کریں حقوق ادا کرکے سچی توبہ کریں 
یہ قلم خاموش گفتگو ہے مگر اس کی بازگشت دیر تک رہنی چاہیے خاموش گفتگو وہ لاوا ہے جو چیختا نہیں مگر جلاتا ضرور ہے جو ظلم کو دیکھ کر خاموش رہا اندر ہی اندر پگھلتا رہا جب برداشت کی دیوارٹوٹ گئی تو لفظ بن کر پھٹ پڑا تاکہ سچ دفن نہ ہواور ضمیر زندہ رہے

(خاموش گفتگو)