امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی مخالفت کی ہے۔
اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل کین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے کی صورت میں امریکا کو اسلحے کی کمی، علاقائی اتحادیوں کی محدود حمایت اور ایرانی جوابی کارروائی جیسے اہم مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے اور امریکی فوج کو جانی نقصان کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبریں ’سو فیصد غلط‘ ہیں، اور جنرل کین کا موقف یہ ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ہوئی تو امریکا اسے آسانی سے جیت سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل کین نے کبھی ایران کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کی اور اگر حکم دیا گیا تو وہ مکمل طاقت سے کارروائی کریں گے۔رپورٹس کے مطابق، ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اطلاع دی تھی کہ جنرل کین ایک حالیہ ملاقات میں یہ بھی بتایا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے کی صورت میں امریکی اسلحے کے ذخائر، خاص طور پر میزائل دفاعی نظام اور گولہ بارود، پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، اور اس جنگ کا نتیجہ طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، ’ایکسیئس‘ کے مطابق، جنرل کین گزشتہ چند ہفتوں سے ایران سے متعلق بریفنگ دینے والے واحد فوجی اہلکار ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو جنوری کے بعد سے صدر ٹرمپ سے ملاقات کا موقع نہیں ملا۔ ذرائع کے مطابق، جنرل کین ایران کے معاملے میں محتاط رویہ رکھتے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کسی بڑی کارروائی میں امریکا ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں پھنس سکتا ہے۔دوسری طرف، صدر ٹرمپ نے ان خبروں کو ’فیک نیوز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل کین نے کبھی ایران کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کی، اور اگر حکم دیا گیا تو وہ مکمل طاقت سے کارروائی کریں گے۔ اس دوران، امریکا حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی تیاری بھی کر رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے امریکا کے بعض سخت مطالبات جن میں جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت، اور علاقائی گروہوں کی حمایت شامل ہے، کو مسترد کر دیا ہے۔