طلعت بٹ
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف معاشی استحکام کے کچھ مثبت آثار نظر آتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مہنگائی، توانائی کی بلند لاگت، قرضوں کا بوجھ، کمزور برآمدات، ٹیکس کے محدود دائرے اور روزگار کے مسائل جیسے چیلنجز بدستور موجود ہیں. حالیہ برسوں کے معاشی بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان صرف وقتی قرضوں اور ہنگامی اقدامات کے ذریعے دیرپا خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا. ملک کو ایسی معاشی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو آمدنی بڑھائے، پیداوار میں اضافہ کرے، برآمدات کو وسعت دے، روزگار پیدا کرے اور عام آدمی کی زندگی آسان بنائے. حالیہ جائزوں میں پاکستان کی معیشت میں استحکام کی پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے لیکن عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق پائیدار اور تیز رفتار ترقی کے لیے ساختی اصلاحات جاری رکھنا ضروری ہے. آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پاکستان کی معاشی مشکلات کی ایک بڑی وجہ کمزور ٹیکس نظام ہے. مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ٹیکس کم جمع ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ ٹیکس کا بوجھ مختلف شعبوں میں منصفانہ طور پر تقسیم نہیں. ایسے شعبے اور افراد بھی موجود ہیں جن کی معاشی سرگرمی بڑی ہے لیکن ان کی ٹیکس شراکت نسبتاً کم ہے. ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ وسیع کرے. ڈیجیٹل انوائسنگ، بہتر ریکارڈ، جدید ٹیکنالوجی اور اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے ٹیکس چوری کو کم کیا جا سکتا ہے. آئی ایم ایف کے حالیہ جائزے میں بھی ٹیکس بیس وسیع کرنے ٹیکس انتظامیہ بہتر بنانے اور ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے. ایک منصفانہ نظام میں تنخواہ دار طبقے پر مسلسل اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے معیشت کے تمام بڑے شعبوں کو مناسب طور پر حصہ ڈالنا چاہیے جب شہریوں کو یہ اعتماد ہوگا کہ ان کا ٹیکس تعلیم، صحت، سڑکوں، پانی اور دیگر عوامی سہولیات پر خرچ ہو رہا ہے تو ٹیکس ادا کرنے کا رجحان بھی بہتر ہوگا. بجلی اور توانائی کا مسئلہ پاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی سے براہِ راست تعلق ہے. مہنگی بجلی اور گیس صنعت کے پیداواری اخراجات بڑھاتی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے. اس مسئلے کا حل صرف بجلی کے نرخ بڑھانا نہیں بلکہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں اصلاحات کرنا ہے. لائن لاسز، چوری، غیر مؤثر اداروں اور انتظامی خرابیوں کو کم کیے بغیر توانائی کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا. آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے توانائی کے شعبے کو مالی طور پر پائیدار بنانے، ترسیل و تقسیم کو بہتر کرنے، گردشی قرضے کے دوبارہ جمع ہونے کو روکنے اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی پر زور دیا ہے. پاکستان کے لیے شمسی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری ایک اہم موقع ہے. تاہم اس کے ساتھ قومی گرڈ کی مضبوطی اور توانائی کے پورے نظام کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے. برآمدات میں اضافہ ہی اصل راستہ ہے کوئی بھی ملک مستقل بنیادوں پر صرف قرض لے کر خوشحال نہیں ہو سکتا. پاکستان کو اپنی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا. ہماری ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی عالمی منڈی میں موجود ہے مگر صرف روایتی مصنوعات پر انحصار کافی نہیں. ہمیں خام مال یا کم ویلیو مصنوعات کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنی ہوں گی. اس کے
ساتھ آئی ٹی، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، انجینئرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکل، حلال فوڈ، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی ضرورتپر زور دینا ہو گا. پاکستان کے نوجوان اس شعبے میں سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں. اگر نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں، زبانیں، پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور آن لائن کاروبار کی تربیت دی جائے تو وہ پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکتے ہیں. زراعت کو جدید بنانا ہوگا
پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر ہماری زرعی پیداوار ابھی بھی اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکی. پانی کی کمی، پرانے طریقہ ہائے کاشت، غیر معیاری بیج، مہنگی کھاد، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات اور مارکیٹنگ کے مسائل کسان کی آمدنی کو متاثر کرتے ہیں. زرعی شعبے میں ڈرِپ اریگیشن، جدید بیج، موسمیاتی معلومات، مشینی کاشت، کولڈ اسٹوریج اور جدید مارکیٹنگ کو فروغ دینا ہوگا. صرف فصل پیدا کرنا کافی نہیں کسان کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت بھی ملنی چاہیے. اگر زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے تو پاکستان صرف گندم، چاول یا پھل برآمد کرنے کے بجائے تیار شدہ غذائی مصنوعات بھی عالمی مارکیٹ میں فروخت کر سکتا ہے. نوجوان اور روزگار پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہیں لیکن اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع نہ ملیں تو یہی طاقت معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے. حکومت کو یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر بھی توجہ دینا ہوگی. مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں. نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمت کا منتظر بنانے کے بجائے کاروبار، فری لانسنگ، ٹیکنالوجی اور برآمدی خدمات کی طرف راغب کرنا چاہیے. چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پاکستان میں روزگار کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں. انہیں آسان قرض، کم کاغذی کارروائی اور واضح قوانین فراہم کیے جائیں. اسی طرح کئی سرکاری ادارے طویل عرصے سے مالی بوجھ بنے ہوئے ہیں. حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سے ادارے عوامی مفاد کے لیے ضروری ہیں اور کون سے ادارے نجی شعبے کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں چل سکتے ہیں. آئی ایم ایف کے مطابق بھی ریاستی ملکیت والے اداروں میں اصلاحات، مسابقت میں اضافہ، پیداواری صلاحیت بہتر بنانا اور حکومتی اخراجات کو کم کرنا پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہونے چاہیئیں. لیکن اصلاحات کا مطلب صرف ادارے فروخت کرنا نہیں ہونا چاہیے. تعلیم اور صحت کو خرچ نہیں، سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا ایک مضبوط معیشت صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بنتی. اگر تعلیم اور صحت کے شعبے کمزور ہوں تو ملک کی پیداواری صلاحیت بھی کمزور رہتی ہے. اس لیے بجٹ میں تعلیم، صحت، غذائیت اور انسانی ترقی کو بنیادی ترجیح دینی چاہیے. عالمی بینک بھی پاکستان کے لیے انسانی سرمائے، پیداواری صلاحیت اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو پائیدار ترقی کے اہم ستونوں میں شمار کرتا ہے. معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کار کو یقین چاہیے کہ آج بنایا گیا کاروباری منصوبہ چند ماہ بعد اچانک تبدیل ہونے والی پالیسی کا شکار نہیں ہوگا. پاکستان کو طویل مدتی قومی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس کے مطابق حکومتیں بدلنے کے باوجود بنیادی سمت برقرار رہے. ٹیکس، توانائی، تجارت، صنعت، تعلیم اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پالیسی کا تسلسل سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. اسی طرح وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں اور مالی وسائل کی واضح تقسیم ضروری ہے. عالمی بینک نے بھی پاکستان کے مالیاتی وفاقی نظام میں اصلاحات اور صوبائی اور مقامی سطح پر وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت اجاگر کی ہے. پاکستان کی معاشی بحالی
کوئی ایک دن کا منصوبہ نہیں. یہ ایک طویل سفر ہے جس کے لیے مستقل مزاجی، شفافیت، محنت اور درست ترجیحات ضروری ہیں. ہمیں قرضوں پر انحصار کم کرکے پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور انسانی صلاحیت پر توجہ دینا ہوگی. پاکستان کے پاس زمین، معدنی وسائل، زرعی صلاحیت، سمندری راستے، ایک بڑی نوجوان آبادی اور خطے میں اہم جغرافیائی حیثیت جیسے بے شمار مواقع موجود ہیں. مسئلہ وسائل کی عدم دستیابی نہیں بلکہ ان کے مؤثر اور شفاف استعمال کا ہے. اگر ٹیکس نظام منصفانہ بنایا جائے! توانائی کا شعبہ درست کیا جائے! برآمدات بڑھائی جائیں زراعت کو جدید بنایا جائے نوجوانوں کو ہنر دیا جائے! سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جائیں اور سیاسی پالیسی میں استحکام پیدا کیا جائے تو پاکستان معاشی مشکلات سے نکل کر ایک مضبوط اور خود انحصار معیشت کی طرف بڑھ سکتا ہے. پاکستان کو اب صرف معاشی بحران سے نکلنے کی نہیں، بلکہ ایک ایسی معیشت تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو آنے والی نسلوں کو روزگار، عزت، خوشحالی اور بہتر مستقبل فراہم کر سکے یہی حقیقی معاشی خودمختاری ہے.