لندن: گلوکاروں کے جعلی ریکارڈز بیچ کر لاکھوں کمانے والے شخص کو تین سال کی جیل

لندن: گلوکاروں کے جعلی ریکارڈز بیچ کر لاکھوں کمانے والے شخص کو تین سال کی جیل

لندن: برطانیہ میں معروف عالمی گلوکاروں اور میوزک بینڈز کے نام پر جعلی ونائل ریکارڈز تیار کرکے لاکھوں پاؤنڈ کمانے والے شخص کو عدالت نے ساڑھے 3 سال قید کی سزا سنا دی۔

برطانوی حکام کے مطابق 40 سالہ ریحان احمد تقریباً 7 سال تک جعلی ونائل ریکارڈز تیار کرکے فروخت کرنے کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث رہا۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے معروف فنکاروں کی موسیقی کے جعلی ریکارڈز تیار کیے اور انہیں مارکیٹ میں فروخت کرکے 27 لاکھ پاؤنڈ سے زائد منافع حاصل کیا۔حکام کے مطابق جعلی ریکارڈز میں دی بیٹلز، ٹیلر سوئفٹ، ایڈ شیرن، ایڈیل، آریانا گرانڈے، ڈریک، بیونسے اور ریحانہ سمیت 108 سے زائد معروف فنکاروں کی موسیقی شامل تھی۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب میوزک انڈسٹری سے وابستہ نمائندوں نے خفیہ طور پر ملزم کے گودام سے کچھ ونائل ریکارڈز خریدے۔ بعد ازاں ان ریکارڈز کی جانچ کی گئی تو وہ جعلی ثابت ہوئے، جس کے بعد معاملے کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی گئی۔تحقیقات کے بعد پولیس نے لندن کے علاقے ایکٹن میں واقع ملزم کے گودام پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 2 ہزار 791 جعلی ونائل ریکارڈز برآمد کیے، جسے برطانوی پولیس نے ایک کارروائی میں جعلی ونائل ریکارڈز کی ملک میں ہونے والی سب سے بڑی برآمدگی قرار دیا۔

چھاپے کے دوران تقریباً 70 سال پرانی 4 ونائل پریس مشینیں بھی قبضے میں لی گئیں۔ اس کے علاوہ 3 ہزار دھاتی اسٹیمپرز، ہزاروں ریکارڈ کورز اور لیبلز بھی برآمد ہوئے۔ حکام کے مطابق ضبط کیے گئے تمام سامان کا مجموعی وزن تقریباً 18 ٹن تھا۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے ونائل ریکارڈز کی دوبارہ بڑھتی ہوئی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منظم جعلی کاروبار قائم کیا تھا۔ اس کاروبار کے ذریعے معروف فنکاروں کی موسیقی کے نام پر جعلی مصنوعات تیار کرکے صارفین کو فروخت کی جاتی رہیں۔حکام کے مطابق اس غیر قانونی کاروبار سے نہ صرف فنکاروں اور میوزک ریکارڈ لیبلز کو مالی نقصان پہنچا بلکہ قانونی طور پر موسیقی فروخت کرنے والے کاروبار بھی متاثر ہوئے۔عدالت نے مقدمے کی کارروائی کے بعد 40 سالہ ریحان احمد کو ساڑھے 3 سال قید کی سزا سنا دی۔ یہ کارروائی برطانیہ میں موسیقی کی جعلی مصنوعات کی تیاری اور فروخت کے خلاف حکام کی ایک بڑی کارروائی کے طور پر سامنے آئی ہے۔